کیا کمیٹی ڈالنا جائز ہے؟ شریعت اس حوالے سے کیا حکم دیتی ہے؟ Islam committee
The news is by your side.

Advertisement

کمیٹی ڈالنا جائز ہے؟ شریعت کا کیا حکم ہے؟

کمیٹی کے ذریعے مالی مدد کا حصول ممکن بنانا کوئی نیا عمل نہیں بلکہ برس ہا برس پرانا ہے لیکن یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ کمیٹی کئی طرح کی ہیں ان میں سے صرف ایک جائز ہے بقیہ کمیٹیاں ناجائز اور جوا کھیلنے کے مترادف ہیں۔

اے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک کے اسلامی چینل کیو ٹی وی کے پروگرام میں ایک خاتون سائل کی جانب سے کمیٹی ڈالنے کی شرعی حیثیت کے بارے پوچھا گیا جس پر مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ کمیٹیاں اس طرح ڈالی جائیں کہ اگر ممبران کو اپنی باری آنے پر رقم ملے اور شروع سے آخر تک ممبران کمیٹیاں بھرتے رہیں تو ایسی صورت میں یہ عمل جائز ہوگا۔

مفتی صاحب نے تین کمیٹیوں کے بارے میں بتایا کہ درج بالا ایک کمیٹی جائز اور درج ذیل دو کمیٹیاں ناجائز ہیں

مفتی صاحب نے سائل کے سوال پر تفصیلی جواب دیتے ہوئے کہا کہ عمومی طور پر لوگ اپنی کسی بڑی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کمیٹیاں ڈالتے ہیں جس میں ممبران کی مخصوص تعداد مقررہ رقم ہر ماہ جمع کرواتی ہے یوں ایک خطیر رقم اکٹھی ہو جاتی ہے جو قرعہ اندازی کر کے کسی ایک رکن کو دے دی جاتی ہے تاہم قرعہ اندازی میں نام آنے والا ممبر بھی کمیٹی ختم ہونے تک اپنی ماہانہ کمیٹی بھرتا رہتا ہے۔

  یہ مسئلہ جانیے : کیا بینک میں‌ نوکری کرنا جائز ہے؟

لکی کمیٹی:

لیکن کئی کاروباری حضرات ایسی کمیٹیاں بھی ڈالتے ہیں جنہیں ’’لکی کمیٹی‘‘ کہا جاتا ہے، اس کمیٹی میں جس ممبر کی کمیٹی کھل جاتی ہے وہ پوری رقم تو لے جاتا ہے لیکن پھر کمیٹی کی ماہانہ رقم بھرنے کا پابند نہیں ہوتا اسے لکی کمیٹی کہا جاتا ہے اور یہ جوا کھیلنے کی مانند ہے۔

اس لیے لکی کمیٹی یا اس سے ملتی جلتی کوئی اور کمیٹی ڈالنا اور اس پہ رقم حاصل کرنا جائز نہیں۔

ایک اور اہم مسئلہ : کیا ٹیسٹ ٹیوب بے بی جائز ہے؟

بولی کمیٹی:

اسی طرح ایک ’’بولی کمیٹی‘‘ ہوتی ہے جس میں قرعہ اندازی میں جس ممبر کا نام آتا ہے اسے کوئی دوسرا ممبر زیادہ رقم دے کر وہ کمیٹی لے لیتا ہے اور اس کمیٹی میں بھی جس جس کا نام قرعہ اندازی میں آتا جاتا ہے وہ کمیٹی سے باہر ہو جاتا ہے چنانچہ یہ کمیٹی بھی سراسر جوا اور سود ہے جو کسی طور جائز نہیں۔


نوٹ : ایسے دیگر مسائل سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے* فیس بک پر ہمارے صفحے اے آر وائی کیو ٹی وی کو لائیک کیجیے

جب کہ اپنے سوالات براہ راست بھیجنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔


Comments

comments

یہ بھی پڑھیں