The news is by your side.

ملک میں اگلے 30 دن میں کیا ہونے جا رہا ہے؟

پاکستان میں سیاسی ہلچل عروج پر ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ سیاسی پارہ بڑھتا جا رہا ہے، ملک میں اگلے 30 دن میں کیا ہونے جا رہا ہے؟

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’ دی رپورٹرز ‘ میں یہی سوال میزبان ماریہ میمن نے تجزیہ نگار چوہدری غلام حسین سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ حکمران سیاسی اور عوامی سطح پر عمران خان اور پی ٹی آئی سے شکست کھا چکے ہیں۔

اے آروائی نیوز براہِ راست دیکھیں live.arynews.tv پر

پروگرام کی میزبان ماریہ میمن نے سوال کیا کہ ن لیگ کی قیادت کافی عرصے سے لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات کر رہی ہے، نواز شریف کی وطن واپسی کی باتیں بھی شروع ہوگئی ہیں، حکومت نے عمران خان کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس بھی الیکشن کمیشن میں دائر کردیا ہے۔ کیا عمران خان کو سیاسی میدان سے ناک آؤٹ کرنا ہے؟ محسن رانجھا نے بھی کہا کہ تیس دن میں عمران خان کے خلاف ٹیکنیکل بنیادوں پر فیصلہ آجائیگا تو اگلے 30 دنوں میں ملک میں کیا ہونے جا رہا ہے؟

ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کار چوہدری غلام حسین نے کہا کہ حقیقت ہے کہ یہ لوگ سیاسی اور عوامی سطح پر عمران خان اور پی ٹی آئی سے شکست کھا گئے ہیں، اسی لیے اب انہیں پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سب نے اپنا جواب دینا ہے لیکن یہ لوگ تو اپنے گھپلوں کو ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

چوہدری غلام حسین کا کہنا تھا کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ خدانخواستہ پھانسی دے دیں گے، کوئی لندن سے پریس کانفرنس کر رہا ہے ایک ہمارے وزیر احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان کو لانڈھی جیل میں رکھیں گے شکر ہے انہوں نے تہاڑ، امرتسر جیل کا نام نہیں لیا کسی پاکستانی جیل کا ہی کہا لیکن اس قسم کی باتوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چیف سیکریٹری پنجاب کامران افضل کے مزید کام سے معذوری ظاہر کرنے پر ملک بھر میں یہ کہانی پھیلا دی گئی ہے کہ ان پر بزدار دور کے افسران کی دوبارہ تعیناتی پر زور ڈالا جا رہا تھا لیکن انہوں نے واضح انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ کسی خراب ریکارڈ والے افسر کو تعینات نہیں کروں گا۔ اس بات کو جواز بنا کر پنجاب حکومت اور عمران خان کے درمیان جھگڑے اور اختلافات کا رنگ دیا جا رہا ہے۔

چوہدری غلام حسین نے کہا کہ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور عمران خان یا پی ٹی آئی میں کوئی جھگڑا یا اختلاف نہیں ہے۔ تمام معاملات پر پی ٹی آئی اور ق لیگ کے مابین اتفاق ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی، مونس الہٰی، وزرا اور صوبائی حکومت کی پوری ٹیم سب عمران خان کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں