The news is by your side.

Advertisement

واٹس ایپ نے پرانے آپریٹنگ سسٹم پر سروس بند کرنے کا اعلان کردیا

کیلی فورنیا: پیغام رسانی کی سب سے بڑی موبائل ایپلیکشن واٹس ایپ نے پرانے آپریٹنگ سسٹم پر اپنی سروس نہ دینے کی حتمی تاریخ کا اعلان کردیا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق واٹس ایپ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم فروری 2020 سے اینڈرائیڈ کے پرانے ورژن پر اُن کی ایپلیکشن دستیاب نہیں ہو گی اس کے علاوہ آئی فون آئی او ایس اور ونڈوز فون کے پرانے ورژنز پر بھی واٹس ایپ نہیں چلایا جاسکے گا۔

انتظامیہ کے مطابق نوکیا ایس 40 اور آئی فون پر چلنے والے آئی او ایس 7 یا اس سے پرانے سسٹم والی ڈیوائسز جبکہ اینڈرائیڈ کے 2.3.7 پر واٹس ایپ نہیں چلایا جاسکے گا۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں واٹس ایپ مقبول ترین ایپلیکشن ہے جس کے صارفین کی تعداد تقریباً 50 کروڑ کے لگ بھگ ہے اور دن بہ دن اس کو استعمال کرنے والے لوگوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

مزید پڑھیں: واٹس ایپ نے اہم سنگِ میل عبور کرلیا

دوسری طرف گوگل کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 60 لاکھ سے زائد صارفین پرانے آپریٹنگ سسٹم والے موبائل، ٹیبلیٹ یا دیگر ڈیوائسز پر ایپ استعمال کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ سال سے بلیک بیری، ونڈوز 8 اور نوکیا ایس 40 سمیت کئی فونز پر واٹس ایپ نہیں چل سکے گا۔

واٹس ایپ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ مذکورہ موبائل سیٹس کے ساتھ کئی فیچرز میں جاری کام بند کردیا جائے گا جس کے باعث 2018 سے واٹس ایپ ان موبائل فونز پر دستیاب نہیں ہوگا۔

خیال رہے واٹس ایپ کو 138 ممالک میں ایک بلین سے زیادہ لوگ استعمال کر رہے ہیں اور اسے سماجی رابطے کی صف اول کی موبائل ایپلیکیشن سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئندہ سال کئی موبائل فون سیٹس واٹس ایپ سے محروم ہوجائیں گے

واٹس ایپ کے ذریعے نہ صرف تحریری پیغامات بلکہ آڈیو اور ویڈیو کالز سہولت بھی ہے جس کے ذریعے تصاویر، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ساتھ مختلف فائلز بھی بھیج جا سکتی ہے۔

یاد رہے کہ واٹس ایپ کے مالک مارک زکر برگ نے سال 2017 کی رپورٹ جاری کی جس کے مطابق دنیا بھر میں ایپلیکشن استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد ڈیڑھ ارب سے تجاوز کرچکی اور یومیہ 60 ارب سے زائد صارفین ایک دوسرے کو میسجز کرتے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں