منگل, مارچ 10, 2026
اشتہار

واٹس ایپ غیر محفوظ ہے، ایلون مسک کے دعوے نے ہلچل مچا دی

اشتہار

حیرت انگیز

ٹیکساس (28 جنوری 2026): ایلون مسک کے اس دعوے نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے کہ واٹس ایپ چیٹ غیر محفوظ ہے۔

دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیسلا اور ایکس کے مالک ایلون مسک نے واٹس ایپ اور سگنل ایپ دونوں کو غیر محفوظ ایپ قرار دے دیا ہے۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں ایلون مسک نے کہا کہ واٹس ایپ محفوظ نہیں ہے، بلکہ سگنل ایپ کو بھی محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انھوں نے صارفین کو اپنی کمپنی کی تیار کردہ ایکس چیٹ کے استعمال کا مشورہ دیا۔

ایلون مسک نے ایکس (X) پر اپنی پوسٹ میں واٹس ایپ کی سیکیورٹی پر سوال اٹھایا تو واٹس ایپ نے بھی رد عمل دیتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ الزامات غلط ہیں کہ میٹا کمپنی چیٹ کے نجی پیغامات پڑھ سکتی ہے۔

امریکا میں واٹس ایپ کے ’اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن‘ سے متعلق دیرینہ دعوؤں کے برعکس ایک مقدمہ بھی چل رہا ہے، تاہم واٹس ایپ کے سربراہ ول کیتھ کارٹ نے کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ تو واٹس ایپ اور نہ ہی اس کی ذیلی کمپنی میٹا صارفین کے پیغامات پڑھ سکتی ہے۔

واٹس ایپ چیٹ خفیہ کس طرح ہے؟


انکرپشن سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے واٹس ایپ نے کہا پلیٹ فارم پر تمام ذاتی چیٹس سگنل پروٹوکول کے ذریعے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے تحت محفوظ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغامات بھیجنے والے کے آلے پر ہی خفیہ (انکرپٹ) ہو جاتے ہیں اور انھیں صرف وصول کرنے والے کے آلے پر ہی ڈی کوڈ کیا جا سکتا ہے۔

کیتھ کارٹ نے کہا کہ انکرپشن کی چابیاں صارفین کے فونز میں محفوظ ہوتی ہیں اور واٹس ایپ یا میٹا کو ان تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے نتیجے میں خود کمپنی بھی پیغامات کے مواد کو نہ تو ترسیل کے دوران اور نہ ہی سرورز پر محفوظ ہونے کی صورت میں پڑھ سکتی ہے۔

انسانی دماغ میں شعور کیسے پیدا ہوتا ہے؟ کیا شعور کسی ایک دماغی حصے کی پراپرٹی ہے؟ جدید ترین سائنسی رپورٹ

واٹس ایپ تقریباً ایک دہائی سے یہ انکرپشن نظام استعمال کر رہا ہے اور بارہا یہ واضح کرتا رہا ہے کہ نجی پیغامات نجی ہی رہتے ہیں، چاہے پلیٹ فارم کی ملکیت میٹا کے پاس ہی کیوں نہ ہو۔

یہ بحث امریکا کی ایک ضلعی عدالت میں دائر کیے گئے ایک مقدمے کے بعد دوبارہ زور پکڑ گئی ہے۔ اس مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ میٹا کے ملازمین اندرونی ٹولز کے ذریعے واٹس ایپ کی انکرپشن کو نظرانداز کر سکتے ہیں۔ شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملازمین اندرونی ٹولز اور صارفین کی شناختی معلومات کی مدد سے تقریباً حقیقی وقت میں پیغامات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

واٹس ایپ اور میٹا نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ میٹا کے ترجمان اینڈی اسٹون نے اس مقدمے کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ یہ بغیر کسی تکنیکی ثبوت کے نامعلوم ذرائع پر انحصار کرتا ہے۔

تاہم، کمپنی اس سے قبل یہ بتا چکی ہے کہ اگرچہ وہ صارفین کی چیٹس نہیں پڑھ سکتی، لیکن بعض صورتوں میں محدود میٹا ڈیٹا جمع کیا جا سکتا ہے۔ اس میں ایسی معلومات شامل ہو سکتی ہیں کہ صارف نے کس سے رابطہ کیا اور کب، جو علاقائی قوانین اور پالیسیوں پر منحصر ہوتا ہے۔ واٹس ایپ نے وضاحت کی ہے کہ یہ میٹا ڈیٹا پیغامات کے مواد سے الگ ہوتا ہے اور اس کے ذریعے اصل میں بھیجے گئے پیغامات کو دیکھا نہیں جا سکتا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں