The news is by your side.

Advertisement

اگر متحدہ بانی کو واپس لایا گیا تو میں کام نہیں کروں گا، فاروق ستار

کراچی: سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا ہے کہ بانی ایم کیو ایم نے 22 اگست کو اپنی پارٹی پر خودکش حملہ کیا اور اپنا پاؤں خود کلہاڑی پر مارا تاہم میں نے قوم اور کارکنان کو بچانے کے لیے 23 اگست کو علیحدگی کا فیصلہ کیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’’اگر بانی ایم کیو ایم کو متحدہ میں دوبارہ لایا گیا تو میں اُس پارٹی میں مزید کام نہیں کروں گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ پاک سرزمین پارٹی نے بندوق پھینک دو اور قلم تھامو کی پالیسی قابل ستائش ہے جس پر انہیں سراہا جانا چاہیے‘‘۔

پڑھیں:   وقت آنے پراسمبلیوں سے مستعفی ہوسکتے ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار

 کنوینر ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ عزیز آباد سے برآمد ہونے والے اسلحے سے لاعلم اور لاتعلق ہیں تاہم اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا اور حقائق کو عوام کے سامنے بیان لانے ہوں گے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ عظیم احمد طارق، ڈاکٹر عمران فاروق سمیت 12 مئی کے مقدمات کی تحقیقات ہونی چاہیے تاہم میئر کراچی وسیم اختر کو شہر کی ابتر صورتحال بہتر کرنے کے لیے رہا کیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں:  ایم کیو ایم پاکستان کا اجلاس، فاروق ستار کنوینر مقرر

سربراہ ایم کیو ایم نے کہا کہ ’’ایم کیو ایم کے کچھ لوگوں سے بھارتی خفیہ ایجنسی سے تعلقات ہوں اور را نے کراچی میں کام کیا ہو، تاہم محض چند لوگوں کی وجہ سے پوری قوم کو نشانہ بنانا زیادتی ہے، تاہم ایم کیو ایم پاکستان اب مکمل چھان بین کے بعد ہی لوگوں کو پارٹی میں شامل کررہی ہے‘‘۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹرفاروق ستارکے ساتھ کام نہیں کرسکتا،امجد اللہ خان

 فاروق ستار نے پاک سرزمین پارٹی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’انیس قائم خانی اور مصطفیٰ کمال پارٹی سے مایوس ہوکر گئے تھے تاہم میں نے آج تک انہیں غلط نہیں کہا مگر اُن کے طریقہ کار پر اختلاف ہے‘‘۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں