The news is by your side.

Advertisement

کوکنگ آئل کب زہر بن جاتا ہے، اہم انکشاف

کراچی: کھانا پکانے کے تیل کی صورت میں ہم دراصل کیا چیز اپنے پیٹ میں اتارتے ہیں، اس سلسلے میں اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا کی خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بار بار استعمال شدہ کوکنگ آئل کی شکل میں ہم زہر پیٹ میں اتارتے ہیں، کھلا اور کئی بار استعمال کیا جانے والا تیل کینسر اور کولیسٹرول کا سبب بنتا ہے۔

فوڈ بلاگر محسن بھٹی نے پروگرام میں بتایا کہ استعمال شدہ کوکنگ آئل کو دوبارہ استعمال کرنا انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے، لیکن چاہے گھر ہو یا بازار کوکنگ آئل کا بار بار ہی نہیں کئی روز تک استعمال معمول کی بات بن گئی ہے لیکن بیش تر افراد یہ نہیں جانتے کہ کوکنگ آئل کا بار بار استعمال کینسر اور دل کے امراض میں مبتلا کر دیتا ہے، تیل کو بار بار گرم کرنے سے اس میں ایسے ذرات پیدا ہو جاتے ہیں جو جسم میں جا کر خون کے ساتھ مل جاتے ہیں اور کئی خطرناک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ استعمال شدہ آئل کو اگر دوبارہ استعمال کرنا ہے تو ان باتوں کا خیال رکھا جائے کہ آئل کے استعمال کے بعد اسے ٹھنڈا ہونےکے لیے رکھ دیا جائے، پھر اسے ائیر ٹائٹ ڈبے میں رکھ دیں اور پھر کچھ دن کے بعد اس آئل کا استعمال کریں تو یہ انسانی جسم کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔

دوبارہ استعمال کرنے سے قبل اگر آئل کا رنگ پہلے سے گہرا ہو گیا ہے اور وہ پہلے سے زیادہ گاڑھا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ استعمال کے قابل نہیں ہے، اسے فوراً پھینک دینا بہتر ہے۔ آئل کو گرم کرتے وقت اگر اس میں معمول سے زیادہ دھواں بنے تو مطلب یہ بھی اب قابل استعمال نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق سن فلاور آئل، سویا بین، سرسوں، کنولا کا اسموک پوائنٹ زیادہ جب کہ زیتون کے تیل کا اسموک پوائنٹ کم ہوتا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں