The news is by your side.

Advertisement

اسکالر شپ پر جانے والے کہاں غائب ہو جاتے ہیں؟

کراچی: اسکالر شپ کے لئے بیرون ملک جانے والے لیکچرار نے قومی خزانے کو ایک ارب سے زائد کا نقصان پہنچایا ہے۔

ہائیر ایجوکیشن کیمشن کی جانب سے جاری اعداو شمار کے مطابق کے پی کے کی سرکاری جامعات سے اڑسٹھ لیکچرار پی ایچ ڈی کے لئے بیرون ملک گئے، لیکن تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ پاکستان واپس نہیں آئے جبکہ بیالیس اپنی تعلیم ہی مکمل نہ کرسکے اور فیل ہوگئے۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ یونیورسٹی نے ان لیکچرار کے خلاف پچیس فیصد جرمانہ سمیت دیگر کارروائی کا آغاز کردیا ہے، رپورٹ کے مطابق بیرون ملک پی ایچ ڈی کرنے والے شخص پر ایک سے ڈیڑھ کروڑ کے اخراجات آتے ہیں۔

اس حوالے سے سابق ایچ ای سی چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں اسکالر شپ دینے کے کئی طریقے ہیں، جب کوئی لیکچرار ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے توسط سے پی ایچ ڈی کرنے بیرون ملک جاتا ہے تو متعلقہ شخص سے مکمل معاہدے کے علاوہ شیورٹی بانڈ بھی دیا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس کے قریبی عزیز کو گواہ بھی بنایا جاتا ہے۔

اگر کوئی لیکچرار تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس نہیں آتا تو ایچ ای سی اسے شوکاز نوٹس بھیجتی ہے، اور اسے پاکستان واپس آنے کے بعد معاہدے کی رو کے تحت متعلقہ جامعہ میں پانچ سال کے لئے تدریسی عمل سر انجام دینے کا کہتی ہے، اگر وہ نہیں آتے تو جتنا خرچہ پی ایچ ڈی کی تعلیم پر ہوا متعلقہ شخص کو پچیس فیصد جرمانے کے ساتھ اسے ادا کرنا ہوتا ہے۔انڈونیشیا کا پاکستانی طلبہ کے لیے اسکالر شپ کا اعلان -

سابق چیئرمین ایچ ای سی نے انکشاف کیا کہ خیبر پختونخواہ ہی نہیں ملک کے دیگر صوبوں سے پی ایچ ڈی کے لئے جانے والے لیکچرار حضرات میں سے سات سے آٹھ فیصد لوگ تعلیم مکمل کرنے کے بعد روپوش ہوجاتے ہیں اور نجی یونیورسٹیوں میں تعلیم دینے لگ جاتے ہیں۔

سابق ایچ ای سی چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد کا مزید کہنا تھا کہ متعلقہ جامعہ اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن اگر اس شخص کو واپس پاکستان لانے میں سنجیدہ ہوتو کوئی وجہ نہیں کہ وہ پاکستان واپس نہ آئے۔

اسکالر شپ پر باہر جانیوالے 8 فیصد طلبہ کے غائب ہونے کا انکشاف - ایکسپریس  اردو

پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جب میں ایچ ای سی میں تھا تو ایک شخص جرمنی سے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد روپوش ہوگئے، میں نے متعلقہ حکام سے باز پرس کی تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ہماری دسترس میں نہیں، میں نے اس شخص کا نام گوگل میں سرچ کیا تو پتہ چلا کہ موصوف امریکا کی ایک یونیورسٹی میں بطور لیکچرار اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

اس شخص کو واپس پاکستان لانے کے لئے میں نے امریکا کی متعلقہ یونیورسٹی اور مقامی ایجنسی کو خط لکھا اور بتایا کہ یہ پاکستانی شخص مفرور ہے اسے پاکستان کے حوالے کیا جائے، جس پر انہوں نے فوری ایکشن لیتے ہوئے چند ہی دنوں میں اسے ڈی پورٹ کرتے ہوئے پاکستان بھیجا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں