The news is by your side.

Advertisement

ہائی بلڈ پریشر روکنے کے لئے کون سے چائے معاون ہے؟ جانئے

چائے کی مقبولیت سے انکار ممکن نہیں اور یہ گرم مشروب دنیا کے بیشتر حصوں میں بھی پسند کیا جاتا ہے، چائے پر سائنسی تحقیق کے بعد آئے روز نئے انکشافات ہوتے رہتے ہیں ایک اور سائنسی تحقیق نے چائے کو موذی مرض کے لئے مفید قرار دے دیا ہے۔

سیدتی میگزین میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق چائے کے بہت سے فوائد ثابت ہوئے ہیں، یہ اینٹی آکسیڈینٹس سے بھرپور ہے اور خاص طور پر جسم کے خلیوں کی حفاظت اور بڑھاپے سے بچانے میں معاون ہے۔

ایک حالیہ تحقیق میں ہائی بلڈپریشر کے خلاف چائے کو موثر اشیاء کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔شریانوں میں خون کا دباؤ بڑھنے سے ہائی بلڈ پریشر ہوتا ہے، یہ دل کے امراض، جیسے اسٹروک، دماغی فالج اور شریانوں کے لیے خطرے کا باعث بنتا ہے، تحقیق کے مطابق اس دائمی بیماری کو جو پوری دنیا کے لوگوں کی بڑی تعداد کو متاثر کرتی ہے اسے چائے کے مستقل استعمال سے کم کیا جاسکتا ہے۔

سبز اور کالی چائے دونوں میں قدرتی اینٹی آکسڈینٹس پائے جاتے ہیں، یہ کے سی این کیو فائیون نامی پروٹین کو متحرک کرتے ہوئے بلڈ پریشر کو کم کرتے ہیں، جو شریانوں کو بڑھانے میں (خون کی شریانوں کے سائز میں اضافے) میں کردار ادا کرتا ہے۔

قلبی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے چائے پینا ایک اچھا خیال ہوگا، کیونکہ یہ نئی تحقیق اس کی تصدیق کرتی ہے۔

تاہم چائے کے زیادہ استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے، کیونکہ ماہر غذا ڈاکٹر نینا کوہین کوبی کے مطابق یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہر شخص کتنا حساس ہے۔ البتہ یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ کسی بھی کھانے کے کم سے کم ایک گھنٹے بعد ایک دن میں تقریباً تین کپ چائے پی جاسکتی ہے۔

ماہرین غذا ساتھ ہی متنبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کہ ‘آئرن جسم کو بہتر طریقے سے چلنے کے لیے اور عام طور پر جسمانی صحت کے لیے ایک ضروری عنصر ہے، سرخ خون کے خلیوں میں آئرن موجود ہوتا ہے، اور چائے کے ضرورت سے زیادہ استعمال کی صورت میں یہ جسم کو آئرن جذب کرنے سے روکتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں