The news is by your side.

Advertisement

امریکا افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات کرے گا

واشنگٹن: افغان حکام اور طالبان کے درمیان شدید تناؤ کے بعد امریکا نے طالبان سے براہِ راست مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی خبر رساں ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اب براہِ راست طالبان سے مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ باہمی گفتگو سے معاملے کا حل نکالا جاسکے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود امریکی فوج کے سربراہ جنرل جان نکلسن نے اپنے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا طالبان سے براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

جان نکلسن کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب افغان حکومت بھی طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سفارتی کوششیں کررہی ہے۔


افغانستان: طالبان کا سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ، 7 اہلکار ہلاک


قبل ازیں متعدد بار طالبان نے امریکا سے براہِ راست مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا تھا لیکن امریکا کی ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات افغان حکام کرے، جبکہ اب امریکا کی جانب سے اہم فیصلہ آیا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور دیگر سینیئر امریکی عہدے داروں نے کابل کا دورہ کیا تھا جس کا مقصد مذاکرات کے لیے راہیں ہموار کرنا تھا۔

دوسری جانب طالبان نے آج بھی افغانستان میں دہشت گرد کارروائی کی، صوبہ ننگرہار میں قائم پولیس سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے کے نتیجے میں سات پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔

یاد رہے کہ گذشتہ زور افٖغان فوج نے صوبہ ننگرہار میں ہی ایک بڑی فضائی کارروائی کی تھی جس کے باعث بیس سے زائد طالبان مارے گئے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں