The news is by your side.

Advertisement

سارا سینڈر کو ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے کام کرنے پر ریستوران نے نکال دیا

واشنگٹن : امریکی صدر کی ترجمان سارا سینڈر کو ورجینیا کے مقامی ریستوران کی مالک نے یہ کہہ کر ’آپ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے کرتی ہیں‘ ریستوران سے نکال دیا۔

تفصیلات کے مطابق وایٹ ہاوس کی ڈپٹی میڈیا سیکریٹری سارا سینڈرز کو ورجینیا کے مقامی ریستوران کی انتظامیہ نے یہ کہہ کر ریستوران سے نکال دیا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجمان ہیں اور ان کی غلط پالیسیوں کا دفاع کرتی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاوس کی ترجمان سارا سینڈر اپنی فیملی کے ہمراہ ورجینیا کے مقامی ریستوان ’ریڈ ہین‘میں ہفتے کی رات کھانا گئی تھیں، جس کی بکنگ ان کے شوہر کے نام سے ہوئی تھی۔

جیکی فولی سماجی رابطے کی ویب سایٹ فیس بک واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’سارا سینڈر اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ٹیبل پر بیٹھیں ہی تھیں کہ ریستوران کی مالک ولکنسن نے ان کہا کہ ’آپ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے کام کرتی ہیں لہذا ریستوران سے فوراً نکل جائیں‘۔

جیکی فولی کا کہنا تھا کہ سارا سینڈر ریستوران کی خاتون مالک کی بات سن کر خاموشی ریستوران سے نکل گئیں۔

واضح رہے کہ جیکی فولی نے سماجی رابطے کی ویب سایٹ پر دعویٰ کیا تھا کہ وہ ’ریڈ ہین‘ ریستوران میں ویٹر کی نوکری کرتا ہے۔

سارا سینڈر واقعے کے حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر پوسٹ میں بتایا کہ ’مجھے ریستوران کی خاتون مالک نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے پر ریستوران چھوڑنے کا کہا، تو میں خاموشی سے باہر آگئی‘۔

سارا سینڈر کا کہنا تھا کہ ’میں ہمیشہ عوام الناس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتی ہوں پھر چاہے وہ میرے خلاف ہی کیوں نہ ہو، البتہ ریستوران میں جو کچھ ہوا اس کے باوجود اپنا کام جاری رکھوں گی‘۔

دوسری جانب ریستوران کی مالک ولکنسن کا کہنا تھا کہ ’امریکی صدر کی ترجمان سارا سینڈر ٹرمپ جیسے ظالم شخص کے لیے کام کرتی ہیں اور اس کی غلط اور ظالمانہ پالیسیوں کا دفاع کرتی ہیں‘۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اپنی متصابہ پالیسی کے تحت تارکین کے 2 ہزار بچوں کو ان کے والدین سے علیحدہ کیا کردیا تھا۔ جس کے خلاف امریکا میں شدید مظاہرے بھی ہوئے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تارکین وطن کے بچوں سے متعلق اقدامات اٹھانے پر ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے بھی امریکی صدر کی مخالفت کی تھی۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے شدید عوامی دباؤ کے باعث امیگریشن پالیسی میں تبدیلی کے حوالے سے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے جس کے تحت اب خاندانوں کو علیحدہ نہیں کیا جائے گا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں