وزیراعلیٰ پنجاب کسے ہونا چاہیے؟ عوام نے اپنا فیصلہ سنادیا
The news is by your side.

Advertisement

وزیراعلیٰ پنجاب کسے ہونا چاہیے؟ عوام نے اپنا فیصلہ سنادیا

کراچی: پاکستان تحریک انصاف الیکشن 2018 میں واضح اکثریت اور آزاد امیدواروں سمیت کچھ جماعتوں کی حمایت کے بعد وفاق، خیبرپختونخواہ اور پنجاب میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔

پنجاب کو ملکی سیاست میں اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے ، سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن کو یہاں سے ماضی میں واضح اکثریت بھی ملتی رہی ہے تاہم کپتان کے نئے پاکستان کے نعرے اور پاناما کے خلاف شروع ہونے والی جدوجہد کے بعد زندہ دلانِ پنجاب نے اپنا فیصلہ رواں انتخابات تبدیل کر کے سب کو حیران کردیا۔

عام انتخابات 2018 میں تحریک انصاف نے پنجاب سے 122 نشستیں حاصل کیں اور پھر پی ٹی آئی کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے عمران خان کی ہدایت پر آزاد امیداروں سے رابطے کیے اور ان سے حکومت بنانے کے لیے مدد مانگی جبکہ مسلم لیگ ق نے بھی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے۔

پنجاب سے 28 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے جن میں سے 25 نے تحریک انصاف میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرلی، اس تمام تر صورتحال کے پیش نظر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں حکومت بنانے جارہی ہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین نے انتخابات میں واضح اکثریت ملنے اور ممکنہ حکومت بنانے کی پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اہم کھلاڑیوں کو وفاق اور صوبائی حکومتوں میں اہم عہدے تفویض کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اے آر وائی نیوز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر عوام سے رائے طلب کی کہ وہ تحریک انصاف کے کس امیدوار کو وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے پر دیکھنا چاہتے ہیں؟ اس ضمن میں پی ٹی آئی کے تین (علیم خان، ڈاکٹر یاسمین راشد، شاہد محمود قریشی) اور مسلم لیگ ق کے چوہدری شجاعت کے نام عوام کے سامنے رکھے گئے۔

عوامی سروے میں 2346 افراد نے حصہ لیا جس میں 65 فیصد افراد نے ڈاکٹر یاسمین راشد کو وزیراعلیٰ پنجاب سے کے لیے سب سے بہترین امیدوار قرار دیا جبکہ دوسرے نمبر پر علیم خان تیسرے پر شاہ محمود اور 5 فیصد نے چوہدری شجاعت کے حق میں ووٹ دیا۔


 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں