The news is by your side.

Advertisement

کورونا ویکسین : عالمی ادارہ صحت کی امیر ممالک سے اہم اپیل

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب کئی ممالک کو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین موصول نہیں ہوئی، امیر ممالک کو اپنے شہریوں کو بوسٹر شاٹس یا تیسری خوراک نہیں دینی چاہیے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کو عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم نے کہا ہے کہ کورونا کی وبا سے ایک بار پھر اموات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ کورونا وائرس کا نیا ڈیلٹا ویریئنٹ تیزی سے پھیل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک کو اب تک اپنے ہیلتھ ورکرز کو وبا سے محفوظ رکھنے کے لیے کورونا ویکسین کی خوراک کی کافی مقدار موصول نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی نئی قسم ڈیلٹا دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ کورونا وائرس کے نئے کیسز اور اموات میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تیزی سے پھیلنے والا ڈیلٹا ویریئنٹ سب سے پہلے انڈیا میں سامنے آیا تھا اور اب یہ ایک سو چار سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے بتایا کہ عالمی سطح پر ویکسین کی فراہمی بہت حد تک ناہموار اور غیر منصفانہ ہے۔

انہوں نے ویکسین بنانے والی کمپنیوں فائزر اور موڈرنا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ امیر ممالک کو ویکسین کی تیسری یا بوسٹر خوراکیں فراہم کرنے کے بجائے کوویکس کو بھیجیں۔ کوویکس کے تحت درمیانی آمدنی والے اور غریب ممالک کو ویکسین فراہم کی جاتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی چیف سائنسدان سومیا سوامی ناتھن نے کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کو ابھی تک ایسے ثبوت نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ ویکسین کا مکمل کورس کرنے والوں کو بوسٹر خوراکوں کی ضرورت ہو۔ اگرچہ ایک دن بوسٹر یا تیسری خوراک ضروری ہو سکتی ہے تاہم ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ اس کی ابھی ضرورت ہے۔

اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسیز پروگرام کے سربراہ مائیک ریان کا کہنا ہے کہ اگر ممالک ویکسین کی قیمتی خوراکیں بوسٹر شاٹ کے طور پر ایسے وقت میں استعمال کریں جب لوگ اب بھی ویکسین لگائے بغیر مر رہے ہیں تو ہم غصے میں پیچھے مڑ کر دیکھیں گے اور ہمیں پیچھے مڑ کر دیکھنے پر شرمندہ ہونا ہو گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں