پاک فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے احسان اللہ احسان کون ہیں؟ ehsan-ullah-ehsan
The news is by your side.

Advertisement

پاک فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے احسان اللہ احسان کون ہیں؟

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے آج اپنی طویل پریس کانفرنس میں پاک فوج کی ایک اہم کامیابی ذکر کیا جس کے مطابق تحریک طالبان کے ترجمان کی حیثیت سے شہرت پانے والے احسان اللہ احسان نے خود کو پاک فوج کے حوالے کردیا ہے۔

احسان اللہ احسان کون ؟؟؟


ایک عرصے تک بین الاقوامی میڈیا پر خوف کی علامت سمجھےجانےوالےاحسان اللہ احسان کا اصلی نام سجاد ہے اور وہ مہمند قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے ابتدائی تعلیم قبائلی علاقوں میں قائم مدارس سے حاصل کی اور 2008 کے بعد سے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان کی حیثیت سے پہچانے گئے۔

احسان اللہ احسان کو تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان کی ذمہ داری سابق ترجمان شاہد اللہ شاہد کی سبک دوشی کے بعد دی گئی جنہوں نے بعد ازاں ٹی ٹی پی چھوڑ کر داعش میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور سال 2015ء میں افغانستان میں امریکی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

احسان اللہ احسان کافی متحرک ترجمان رہے ہیں جو ملکی و غیر ملکی سیاسی اور معاشرتی تبدیلیوں پر گہری نگاہ رکھتے تھے اور کرکٹ میں بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے اور اس حوالے سے ان کے بیانات نے طالبان کا قدرے نرم رویہ دنیا کے سامنے پیش کیا تاہم پاکستان میں کی گئی دہشت گردانہ کارروائیوں کے حوالے سے اعترافی بیانات سے عالمی توجہ حاصل کی۔

انہوں نے بین الاقوامی میڈیا کو انٹرویوز بھی دیئے اور طالبان کے موقف سے آگاہ کیا تاہم وہ دہشت گردی کی سفاکانہ کارروائیوں کا اعتراف کرنے میں ذرا بھی نہیں چوکتے تھے۔

احسان اللہ احسان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان دوریاں اس وقت بڑھنے لگیں جب بہ قول افغان طالبان کہ تحریک طالبان پاکستان حکومت پاکستان سے سیز فائر کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی اس اختلا ف کے باعث وہ چند کمانڈرز کو اپنے ہمراہ لے کر علیحدہ ہو گئے اور جماعت الاحرار کی بنیاد رکھی۔

جماعت الاحرار نے پاکستان میں سفاکانہ کارروائیاں جاری رکھیں اور ان کارروائیوں کا اعتراف بھی احسان اللہ احسان اللہ اپنے بیانات کے ذریعے کیا حال ہی میں لاہور میں ہونے والے بم دھماکوں کے تانے بانے اسی جماعت سے جا کر ملتے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جماعت الاحرار نے داعش سے گٹھ جوڑ کر لیا تھا اور مشترکہ کارروائیاں کیا کر تی تھیں۔

کالعدم ٹی ٹی پی نے شمالی وزیرستان میں پمفلٹس بانٹے جس میں کہا گیا احسان اللہ احسان کو ہٹا دیا گیا ہے۔ احسان اللہ احسان نے جماعت الاحرار گروپ بنا کر سرگرمیاں جاری رکھیں۔

احسان اللہ احسان فورسز پر حملوں سمیت پاکستان میں دہشتگردی کے کئی واقعات میں ملوث تھا۔ ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کا اعتراف کرنے کے بعد سے احسان اللہ احسان نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی جس کے بعد حکومت پاکستان نے احسان اللہ احسان کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر10  لاکھ ڈالرکا انعام رکھا تھا۔

احسان اللہ احسان نے جماعت الاحرار کی ترجمانی کرتے ہوئے 2014 سے 2016 کے دوران دس اہم کارروائیوں کا اعتراف کیا جس میں سانحہ کوئٹہ اور ماڈل ٹاؤن بھی شامل ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں