The news is by your side.

Advertisement

گاڈ فادر اور سسلین مافیا کیا ہیں ؟ عدالت نے شریف خاندان سے کیوں تشبیہ دی؟

پاناما کیس میں اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے شریف خاندان کو گاڈ فادر اور سسلی مافیا سے تشبیہ دی گئی تو بدنام زمانہ سسلین مافیا کا تذکرہ زبان زد عام ہوگیا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں سسلین مافیا کیا ہے؟

سسلی اٹلی کا ایک جزیرہ ہے جو اپنے جرائم پیشہ گروہوں کی وجہ سے دنیا بھر میں بدنام ہے۔ سسلی کے سب سے بڑا جرائم پیشہ گروہ کو cosa nostra کہا جاتا مگر دنیا اسے سسلین مافیا کے نام سے جانتی ہے۔

سسلی مافیا کی بنیاد 19 ویں صدی میں رکھی گئی تاہم اس کے ماضی کے متعلق حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں کیوں کہ مافیا اپنے ماضی کا ریکارڈ نہیں رکھتا تھا تاہم 1865 میں پہلی بار لفظ مافیا کو سرکاری سطح پر استعمال کیا گیا۔

یہ مافیا منشیات، قتل و غارت گری، سمگلنگ، ڈکیتیاں، قمار بازی، اغوا، جسم فروشی اور منی لانڈرنگ سمیت ہر قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہا۔

اپنی بے تحاشہ دولت کے ذریعے یہ مافیا اٹلی، برطانیہ اور امریکہ سمیت یورپ کے متعدد ممالک کی نہ صرف حکومتوں میں شامل ہے بلکہ معیشت میں بھی اس کا اثر پایا جاتا ہے۔

سسلین مافیا کے خلاف ایک طویل عرصے تک کارروائی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ان کے خلاف کارروائی کرنے والے افسران اور کیسز کی سماعت کرنے والے ججز تک کو قتل کر دیا جاتا تھا۔

سالہا سال سے خوف کی علامت بنے رہنے والے اس مافیا کے متعلق متعدد کتابیں لکھی گئیں۔ سسلین ڈان Bernardo Provenzano پر اطالوی مصنف ماریو پوزو کا ناول اور اس پر بنائی گئی مارلن برانڈو کی مشہور زمانہ فلم گاڈ فادر نے اس مافیا کو دنیا بھر میں شہرت دوام بخشی۔

سسیلن مافیا کے سربراہ  Toto Riina کو Beast اور Boss of the Bosses بھی کہا جاتا تھا۔ سینکڑوں قتل اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث اس ڈان کو سنہ 1993 میں گرفتار کیا گیا اور اسے 26 بار عمر قید کی سزا سنائی گئی تاہم وہ 17 نومبر2017 کو جیل میں کینسر کے ہاتھوں زندگی ہار گیا۔

اس کی موت کے بعد کہا جاتا ہے کہ اس جیسا طاقتور ڈان اب کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ ڈیڑھ سو سال سے دہشت کی علامت بنا ہوا سسلین مافیا گو کہ اب پہلے کی طرح طاقتور نہیں رہا مگر اب بھی دنیا کے بہت سے حصوں میں ہونے والے سنگین جرائم کی کڑیاں کسی نہ کسی صورت اس مافیا سے جا ملتی ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں