The news is by your side.

Advertisement

محمدی بیگم: مسلمان مدبر اور مصنّفہ، خواتین کے لیے مشعلِ راہ

تہذیبِ نسواں اور مشیرِ مادر کی ادارت سے مختلف رسائل کی تصنیف تک

اجل نے مہلت کم دی۔ شاید بہت ہی کم۔ سیدہ محمدی بیگم زندگی کی فقط تیس بہاریں ہی دیکھ سکیں، مگر  اپنی فکر،  اپنے نظریے اور تخیل سے اردو  زبان اور ادب کو  یوں مرصع و آراستہ کرگئیں کہ اس کی نظیر کم ہی ملتی ہے۔ اس تحریر سے نئی نسل کو  ایک نہایت قابل و  باصلاحیت مدیر، لکھاری اور خصوصاً عصرِ حاضر کی خواتین کے لیے ایک مدبر و مصلح کی زندگی اور خدمات کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا۔

 آئیے، محمدی بیگم کی زندگی  کے اوراق الٹتے ہیں۔

دہلی کے نواحی قصبے شاہ پور  میں 1879ء  آنکھ کھولی۔ والد سید احمد شفیع اسٹنٹ کمشنر  تھے۔ والد باذوق اور  روشن خیال تھے۔ انھوں نے اپنی بیٹی کو بنیادی تعلیم کے ساتھ جدید تقاضوں کے مطابق تربیت اور تہذیب سے آراستہ کیا۔

محمدی بیگم کا حافظہ قوی تھا۔ اُن کا شمار ذہین بچوں میں ہوتا تھا، کم عمری میں لکھنے پڑھنے کے ساتھ، امورِ خانہ داری سیکھے۔  کم عمری ہی میں کتب بینی کا شوق اور علم و ادب سے دل چسپی پیدا ہو گئی تھی اور یہی سلسلہ آگے چل کر  ہفتہ وار مجلّہ تہذیبِ نسواں، ماہ نامہ مشیرِ مادر جیسے رسائل اور دیگر تصانیف تک پھیل گیا۔

محمدی بیگم 19 برس کی تھیں جب اُن کی شادی سید ممتاز علی سے ہوئی جو خود بھی ایک مصنف، مترجم اور ناشر تھے۔ ان کی پہلی زوجہ کا انتقال ہو چکا تھا۔ محمدی بیگم کو ایک عورت ہونے کے ناتے نہ صرف گھر کی ذمہ داریاں نبھانا تھیں بلکہ انہیں اپنے شوہر اور اُن کے بچوں کی نگہداشت کے ساتھ تربیت بھی کرنا تھی جو انہوں نے بہت اچھے انداز سے کی اور خود کو ایک بہترین شریکِ حیات کے ساتھ اچھی ماں ثابت کیا۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ محمدی بیگم مشہور ناول نگار امتیاز علی تاج کی والدہ تھیں۔ امتیاز علی تاج کو ان کے ڈراما انار کلی کی وجہ سے خاص طو ر پر یاد کیا جاتاہے۔

سید ممتاز علی ایک روشن خیال اور بیدار مغز انسان تھے۔ انھوں نے محمدی بیگم کی قابلیت اور  صلاحیتوں کو دیکھ کر مسلم عورتوں میں بیداری کی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔ محمدی بیگم نے اپنے رفیقِ حیات کا بھرپور ساتھ دیا اور یوں تہذیبِ نسواں اور خواتین میں بیداری سے متعلق انجمن کی بنیاد پڑی۔

شادی کے بعد خاوند نے محمدی بیگم کی ضرروی تعلیم کا بند و بست کیا، انھوں نے گھر پر انگریزی، ہندی اور  ریاضی سیکھی جب کہ شوہر نے انھیں عربی اور فارسی کی تعلیم دی جس کے  بعد محمدی بیگم نے عورتوں کے لیے رسالے کی ادارت سنبھالی۔  1898ء میں تہذیبِ نسواں جاری ہوا جب کہ خاص طور پر ماؤں کی تربیت اور آگاہی کے لیے ماہ وار رسالہ مشیرِ مادر  بھی 1904 میں منظرِ عام پر آیا۔

یہ سماجی و گھریلو امور، بچوں کی تربیت و پرورش میں مددگار مضامین پر مشتمل رسالہ تھا۔ تاہم محمدی بیگم کی تہذیبِ نسواں کے حوالے سے مصروفیات آڑے آگئیں اور یہ ماہ نامہ بند کر دیا گیا ۔تاہم انھوں نے بچوں کی نگہداشت اور تعلیم و تربیت کے لیے تہذیبِ نسواں میں ہی ایک گوشہ مخصوص کر دیا۔

محمدی بیگم نے اُس دور میں جب خواتین پر مختلف معاشرتی پابندیاں تھیں، خود کو عورتوں کی اصلاح اور ان کو عملی زندگی کے لیے تیار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس سلسلہ میں انجمنِ خاتونانِ ہمدرد کا قیام عمل میں لائیں اور اس پلیٹ فارم سے عورتوں کو باعمل بنانے اور فلاح و بہبود کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔ انجمنِ تہذیبِ نسواں بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

ان کی چند تصانیف کے عنوانات سے ظاہر ہے کہ محمدی بیگم کی تحریروں کا محور عورت اور ان مضامین کا مقصد زندگی اور رشتوں کے ساتھ عملی زندگی سے آگاہی دینا تھا۔  آدابِ ملاقات، نعمت خانہ، رفیقِ عروس، سگھڑ بیٹی، خانہ داری، شریف بیٹی۔ ہندوستان میں خواتین کی اخلاقی تربیت اور کردار سازی کے لیے دن رات محنت اور لگن سے کام کرنے والی محمدی بیگم نے شملہ میں 2 نومبر 1908 کو ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لیں۔


تحریر: عارف عزیز

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں