The news is by your side.

Advertisement

عالمی ادارہ صحت کا منی پاکس کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ؟ وجہ کیا

واشنگٹن: عالمی ادارہ صحت (W.H.O) نے منکی پاکس وائرس کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے 30 سائنسدانوں کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کو ایک خط لکھا گیا ہے، جس میں انہوں نے منی پاکس وائرس کا نام فوری تبدیل کرنے کا کہا ہے، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی وائرس کا نام امتیازی نہیں ہونا چاہیے، وائرس کو افریقی  قرار دینا بھی ہر طرح سے غلط اور امتیازی ہے۔

سائنسدانوں کی جانب سے خط لکھنے کے بعد عالمی ادارہ صحت نے منی پاکس وائرس کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریوسس کا کہنا ہے کہ ادارہ نے وائرس کا نام بدلنے کیلئے دنیا بھر کے شراکت داروں اور ماہرین کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جلد نئے ناموں کے بارے میں اعلان کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: منکی پاکس سے متعلق نئے دعوے سے لوگوں‌ میں خوف

خیال رہےکہ دنیا بھر میں منکی پاکس کے 1600 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے۔ منکی پاکس وائرس ہے بنیادی طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، منکی پاکس، وائرس کے ’پاکس وائری ڈائے‘ (Poxviridae) فیملی سے تعلق رکھتا ہے، اس فیملی کو مزید 2 ذیلی خاندانوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں 22 اقسام ہیں اور مجموعی طور پر اس فیملی میں وائرس کی 83 اقسام ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں