The news is by your side.

Advertisement

روس اور چین کے درمیان کون سا ملک دراڑ‌ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے؟

ماسکو: روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے انکشاف کیا ہے کہ روس کے چند مغربی شراکت دار چین کے ساتھ ان کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزارت خارجہ کے بورڈ سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ ہمارے کچھ مغربی شراکت دار کھلے عام روس اور چین کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ان کوششوں سے بہ خوبی واقف ہیں، اور ہم اپنے چینی دوستوں کے ساتھ مل کر سیاسی، اقتصادی اور دیگر تعاون کو وسعت دے کر ان کوششوں کا جواب دیتے رہیں گے، اس سلسلے میں ہم عالمی میدان میں ہم آہنگی کے لیے بھی اقدامات کرتے رہیں گے۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے بھارت کے حوالے سے کہا کہ ان کا ملک بھارت کو دنیا کے ایک آزاد اور مضبوط مرکز کے طور پر دیکھتا ہے اور اس کے ساتھ کثیر جہتی دو طرفہ تعاون کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

پیوٹن نے کہا کہ روس بھارت کے ساتھ تعلقات میں یکساں رویہ رکھتا ہے اور دونوں ممالک خاص طور پر مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔ واضح رہے کہ روسی صدر کا یہ تبصرہ دسمبر کے اوائل میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ سالانہ دو طرفہ سربراہی اجلاس سے پہلے آیا ہے۔

افغانستان کی صورت حال پر مسٹر پیوٹن نے کہا کہ افغانستان کو خاص طور پر امریکی انخلا کے بعد سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی موجودہ صورت حال روس کی جنوبی سرحدوں پر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اضافی اقدامات کی ضرورت ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں