The news is by your side.

Advertisement

ڈبلیو ایچ او نے کرونا کی تیسری لہر کا خدشہ ظاہر کردیا

جینیوا: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندہ خصوصی برائے کرونا ڈیوڈ نبارو نے کرونا کی تیسری لہر کے حوالے سے خبردار کردیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے کرونا معاملات دیکھنے والے نمائندہ خصوصی ڈیوڈ نبارو نے تمام ممالک کو خبردار کیا کہ 2021 کے آغاز پر کرونا کی تیسری لہر کا سامنا ہوسکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومتوں نے کرونا وائرس کی دوسری لہر پر قابو پانے کے اقدامات نہ کیے اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو یورپ میں 2021 کے آغاز پر وبا کی تیسری لہر اٹھ سکتی ہے۔

نبارو کا کہنا تھا کہ ’عالمی ادارہ صحت کرونا کی پہلی لہر پر قابو پانے کے بعد موسم گرما میں بنیادی ڈھانچے کی تشکیل میں ناکام رہا جس کی وجہ سے ہمیں دوسری لہر کا سامنا کرنا پڑا، ہم اس بار بھی بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے میں ناکام رہے تو آئندہ برس تیسری لہر کا سامنا ہوسکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں: کرونا ویکسین: ٹویٹر، فیس بک اور گوگل کا مشترکہ اہم قدم

اُن کا کہنا تھا کہ ’کرونا کی تیسری لہر یورپ، سوئٹزرلینڈ سمیت دیگر ممالک کے لیے بہت زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اس کی شدت پہلی دو لہروں سے دگنی ہوگی جس کی وجہ سے مریضوں کی تعداد اور اموات میں ہوشربا اضافہ ہوگا‘۔

انہوں نے سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے والے کھیل سکیئنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ایک بار ہم نے سخت اقدامات کرلیے تو ہم کرونا سے آزاد ہوسکتے ہیں مگر ایسی صورت حال میں تفریحی مقامات کا کھلنا اور سیکئنگ کے مقابلوں کی اجازت دینا بالکل غلط فیصلہ ہے’۔

ڈبلیو ایچ او کے افسر کا کہنا تھا کہ ’جنوبی ایشیائی ممالک میں جس طرح جنوبی کوریا نے اقدامات کیے پوری دنیا کو اُسی طرز کی پالیسی بنانی ہوگی کیونکہ وہاں سخت اقدامات کی وجہ سے کرونا کے کیسز تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’جنوبی کوریا کی حکومت نے عوام کو اپنی پالیسز میں شامل رکھا اور اُن کی منشا کے مطابق ایسے ایس او پیز تیار کیے جن پر عوام نے بغیر کسی سختی کے خود ہی عمل کیا‘۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں کرونا وائرس کی تیسری لہر، سخت پابندیوں کا نفاذ

نبارو کا مزید کہنا تھا کہ ’کسی بھی ملک بالخصوص ایشیائی خطے کو کرونا پابندیوں میں نرمی نہیں کرنا چاہیے، ہمیں اُس وقت تک انتظار کرنا ہوگا جب تک کیسز کا گراف نیچے کی جانب نہیں آجاتا‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں