The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس، کن ممالک میں زیادہ تباہ کاریاں پھیلا سکتا ہے؟ جانیے

جینیوا: کرونا وائرس اُن ممالک میں زیادہ تباہ کاریاں پھیلا سکتا ہے جہاں احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا جائے گا۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ نے کہا کہ کرونا سے نمٹنے  جن ممالک نے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے جامع حکمت عملی اختیار کی وہاں کرونا تیزی سے نہیں پھیلا اور صورت حال قابو میں رہی جبکہ کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی گئیں وہاں کی صورت حال بدستور تشویشناک ہے۔

ڈاکٹر ٹیڈروس نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے والے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کرونا کی روک تھام کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو مذکورہ ممالک کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید پڑھیں: ایک اور ویکسین کی آزمائش کامیاب

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادہانوم کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں اب تک کرونا وائرس کے جتنے بھی مریض سامنے آئے ان میں سے 60 فیصد کیسز گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ریکارڈ کیے گئے۔

اُن کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے کرونا کے یومیہ بنیادوں پر ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، مریضوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ اس بات کی غمازی ہے کہ وائرس دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

اس سے  دو روز قبل عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے انکشاف کیا تھا کہ کرونا کی شدت تاحال برقرار ہے اور یہ تیزی سے پھیل رہا ہے، امکان ہے کہ پہلے سے زیادہ لوگ اس سے متاثر ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کن لوگوں پر اثر انداز نہیں ہوسکتا، نئی تحقیق میں بڑا انکشاف

انہوں نے کہا تھا کہ کرونا کی وبا جلد ختم ہونے کے امکانات نظر نہیں آرہے، ہم سب کی خواہش ہے کہ کرونا ختم ہو اور زندگی پہلے کی طرح رواں دواں ہوجائے مگر سچائی اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ کئی ممالک کے اقدامات کے باوجود بھی خاتمے کے اثرات دور دور تک نظر نہیں آرہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں