The news is by your side.

Advertisement

دوسری شادی پر قرض کی پیشکش کیوں کی؟ خواتین بینک کے خلاف نکل پڑیں

بغداد : عراقی بینک کو دوسری شادی کےلیے قرض کی اسکیم نکالنا مہنگا پڑگیا، خواتین نے بینک کے خلاف محاز کھڑا کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق عراق کے سرکاری بینک الرشید نے اپنے ملازمین کےلیے عقد ثانی پر قرض دینے کا اعلان کیا تھا جس پر خواتین نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

عراقی وزیراعظم کی مشیر برائے امور خواتین حنان الفتلاوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ’عورت نمائش یا بکنے والی کوئی شے نہیں، سرکاری بینک کا عقد ثانی کیلئے قرض کی اسکیم نکالنا انتہائی شرمناک ہے اگر فیصلہ واپس نہ لیا تو سڑکوں پر احتجاج کریں گے‘۔

عراقی قانون ساز رزن الشیخ نے وزیراعظم نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ’حکومت اور بینک کو چاہیے کہ خواتین کو ملازمت کے مواقع فراہم کریں، قرض کی اسکیم نکالنی ہے تو خواتین کو کامیاب بنانے کیلئے قرضوں کا اعلان کرے اور متنازعہ قرض اسکیم کو ختم کرے‘۔

دوسری جانب بینک نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ بینک نے یہ قرض کی اسکیم دوسری شادی کو فروغ دینے کےلیے نہیں نکالی بلکہ بیوہ اور طلاق یافتہ لوگوں کےلیے ہے۔

خیال رہے کہ عراقی بینک الرشید نے دو روز قبل اپنے ملازمین کو دوسری شادی کےلیے ایک کروڑ دینار (13 لاکھ پاکستانی) قرض دینے کا اعلان کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں