The news is by your side.

Advertisement

ہم پوٹاٹو چپس کیوں کھاتے چلے جاتے ہیں؟

پوٹاٹو چپس ایک ایسی شے ہے جو اگر ہمارے سامنے آجائے تو اسے پسند کرنے یا نہ کرنے سے قطع نظر ہم اسے کھاتے چلے جاتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے؟

ایک عام مشاہدہ ہے کہ جب بھی ہمارے سامنے پوٹاٹو چپس رکھے جائیں تو چاہے ہم ڈائٹنگ پر ہوں یا اپنے کھانے پینے کے معاملے میں احتیاط کرتے ہوں، ایک چپس کھانے کے بعد ہم بے اختیار مزید چپس کھانا چاہتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معمول کی بات ہے اور اس کی وجہ چپس میں موجود اشیا ہیں۔

ماہرین کے مطابق پوٹاٹو چپس میں 2 اشیا کا مجموعہ ہوتا ہے، ایک نمک اور دوسری چکنائی۔

حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق جب ہم صرف ایک پوٹاٹو چپس کھاتے ہیں تو اس میں موجود نمک ہمارے دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو ڈوپامائن کیمیکل خارج کرتا ہے۔

ڈوپامائن نامی کیمیکل ہمارے اندر خوشی پیدا کرتا ہے۔ گویا پوٹاٹو چپس کھانا ہمارے اندر خوشی کو جنم دیتا ہے جس کے بعد ہمارا دماغ مزید چپس کی طلب کرتا ہے۔

تحقیق کے مطابق نہ صرف پوٹاٹو چپس بلکہ کسی بھی کھانے میں نمک کی مناسب مقدار ڈالی جائے تو یہ ہمارے جسم میں جا کر اس کھانے کی مزید طلب پیدا کرتی ہے۔

اس کے برعکس کم نمک والے کھانے کھاتے ہوئے خود پر کنٹرول رکھنا آسان ہوتا ہے نتیجتاً ہم اتنا ہی کھاتے ہیں جتنی ہمیں بھوک ہوتی ہے یا جتنا ہمارا ڈائٹنگ چارٹ اجازت دیتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں