The news is by your side.

Advertisement

بچوں میں کرونا کی شرح کم اور بیماری کی شدت معمولی کیوں ہوتی ہے؟

واشنگٹن: امریکا میں ہونے والی نئی تحقیق میں دریافت ہوا کہ بچوں کا مدافعتی نظام بالغ افراد سے مختلف ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ بچوں میں کرونا کی شرح کم اور بیماری کی شدت معمولی ہوتی ہے۔

دنیا بھر میں یہ دیکھا گیا کہ کرونا نے بچوں سے زیادہ بڑے عمر کے افراد کو نشانہ بنایا اور اموات بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی لیکن اس کے مقابلے میں بچوں میں کرونا کی شرح کافی کم دیکھی گئی، اس کی وجہ ماہرین مدافعتی نظام بتاتے ہیں، کرونا کے شکار بچوں میں سے اکثر میں بیماری کی شدت معتدل یا علامات نہیں ہوتیں۔

تحقیق میں کہا گیا کہ بچوں کو مدافعتی نظام انہیں کرونا کی شدت سے بچاتا ہے، یہ تحقیق طبی جریدے جرنل نیچر امیونولوجی میں شایع ہوئی، اس ریسرچ میں امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی اور دیگر اداروں نے حصہ لیا۔

ماہرین نے تحقیق میں کووڈ 19 سے متاثر بالغ افراد اور بچوں کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا جس سے ثابت ہوا کہ اس وائرس سے متاثر بچوں کے اندر وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز اور دیگر اقدام کی اینٹی باڈیز بننے کی سطح بالغ افراد کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے لیکن بچوں کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔

کرونا سے صحت یاب مریضوں کو 10 ہفتوں بعد کیا ہوتا ہے؟

محققین کا کہنا تھا کہ بالغ افراد میں ممکنہ طور پر زیادہ اقسام کی اینٹی باڈیز بننے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے جسم میں بچوں کے مقابلے میں زیادہ وائرل لوڈ ہوتا ہے، بچوں کی قوت مدافعت وائرس کی شدت کو کنٹرول کرتی ہے۔

سائنس دانوں نے بتایا کہ بالغ افراد میں مدافعتی خلیات باہری اسپائیک پروٹین کے ساتھ اس حصے کو ہدف بناتے ہیں جو خلیات کو جکڑنے میں مدد دیتا ہے، مگر بچے صرف اسپائیک پروٹین کے خلااف اینٹی باڈیز بناتے ہیں۔

علاوہ ازیں چین میں ہونے والی حالیہ تحقیق میں کہا گیا تھا کہ کروناوائرس بچوں میں برق رفتاری سے خود کو بدلتا ہے، یہ تبدیلیاں بچوں کے معدے میں رونما ہوتی ہیں، کروناوائرس کے میوٹیشن کا عمل بچوں کے معدے میں ہوتا ہے اور یہ تبدیلی وائرس کی منتقلی کے بعد سے ہی شروع ہوجاتی ہے۔

عمومی طور پر کروناوائرس میں ایک یا دو ماہ بعد بڑی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، لیکن بچوں میں پہلے دن سے ہی وائرس کے میوٹیشن کا عمل حیران کن ہے۔ ریسرچ میں کرونا سے صحتیاب ہونے والے کچھ بچوں کی آنتوں میں وائرس کی ساخت یا افعال میں ایک دن کے اندر ہی نوول میوٹیشن کو دریافت کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں