The news is by your side.

مچھر کان کے پاس آکر ہی گانا کیوں گاتے ہیں؟ وجہ سامنے آگئی

رات کو جب ہم نیند کی وادیوں میں کھوئے ہوتے ہیں تو اس دوران اکثر ہمیں گانوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، ان بے موقع اور بے ہنگم سروں کی آوازیں سن کر شدید ذہنی کوفت ہوتی ہے۔

یہ کوئی اور نہیں بن بلائے مہمان مچھر ہی ہوتے ہیں جو ہمیں اپنی آمد کا پتا دیتے اس شدت سے دیتے ہیں کہ ہم بے بسی کے عالم میں کچھ کر بھی نہیں سکتے۔

مچھر اس رات کی تاریکی میں ہمارے کان کے پاس آکر بے سُرا ’گانا‘ گا کر ہمیں تنگ تو کرتے ہیں لیکن اس کی ایک بڑی وجہ ہوتی ہے جس کو پڑھ کر آپ بھی حیرت زدہ رہ جائیں گے۔

مچھروں کے کاٹنے سے صرف خارش کا سامنا ہی نہیں ہوتا بلکہ مختلف امراض کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آخر یہ بے رحم اور نیند کا دشمن کیڑا ہمارے کانوں کے پاس ہی آکر گانا کیوں گاتا ہے؟

مچھر

یاد رکھیں کہ ایسا وہ آپ کو تنگ کرنے کے لیے نہیں کرتے بلکہ اس کے پیچھے کافی دلچسپ وجوہات چھپی ہوئی ہیں۔

اس حوالے سے ماہرین حشرات الارض کا کہنا ہے کہ مچھر جسم کے ان حصوں کی جانب زیادہ کشش محسوس کرتے ہیں جن میں بو زیادہ ہوتی ہے۔

محققین کے مطابق جب ہم سوتے ہیں تو مچھر ہمارے جسم کپڑوں یا کمبل وغیرہ میں گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں اور ہمارے چہرے ضرور ان کی نظروں کے سامنے ہوتے ہیں۔

اس بات پر یقین کرنا مشکل ہوگا مگر حقیقت یہ ہے کہ کان ہمارے جسم کے چند گندے ترین مقامات میں سے ایک ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مچھر اس کی بو کے سبب اس کے اردگرد گھومنا پسند کرتے ہیں۔

ویسے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے مچھر شکار ملنے کی خوشی میں گانا گا رہے ہیں مگر یہ حقیقت نہیں بلکہ وہ آواز ان کے پروں کی برق رفتار حرکت سے خارج ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایک مچھر فی سیکنڈ 250 بار پروں کو حرکت دے سکتا ہے جبکہ مچھر ایک دوسرے سے رابطے کے لیے بھی اسی طرح کی آوازیں نکالتے ہیں۔

اس کے علاوہ ہماری جسمانی حرارت اور پسینہ مچھروں کو شکار کی جانب لے جاتے ہیں جبکہ نیند کے دوران سانس لینے سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ مچھروں کو سر کی جانب لے جاتی ہے، یہ بھی کانوں کے پاس مچھروں کے گانے کی بڑی وجہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں