The news is by your side.

Advertisement

ہوٹل کے بیڈز پر سفید چادریں‌ کیوں‌ بچھائی جاتی ہیں؟‌ راز سامنے آگیا

بیرونِ شہر یا ممالک سفر کرنے والے افراد کو اکثر ہوٹل میں قیام کرنا پڑتا ہے اور انہیں تقریباً تمام ہی ہوٹلز کے کمروں میں رکھے ہوئے بستر (بیڈز) پر سفید رنگ کی چادریں دکھائی دیتی ہیں۔

کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ ہم اپنے گھروں کے کمروں میں تو سفید چادریں بچھانے سے گریز اور رنگ برنگی چادریں بچھانے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ کیا انہیں سفید چادروں سے رغبت ہوتی ہے یا اس کے پیچھے کوئی راز چھپا ہوا ہے۔؟

طویل عرصے سے اس راز پر پردہ پڑا ہوا تھا تاہم اب ایک سیاح نے ہوٹل مالک سے اس راز کے پیچھے چھپی بات کو معلوم کرلیا۔

اسٹیفن ہنٹر نے بتایا کہ انہوں نے سیاحت کے  سیکڑوں ہوٹلوں میں قیام کیا جس کے بعد انہوں نے سفید چادر بچھانے والی بات کو نوٹ کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ چھوٹے یا بڑے کسی بھی ہوٹل میں قیام کے دوران انہوں نے بیڈ پر سفید رنگ کی ہی چادر دیکھی تھی جس کے بعد اُن کے ذہن میں مختلف سوالات شروع ہوگئے۔

مزید پڑھیں: دنیا کامہنگا ترین ہوٹل جہاں خطرناک شارک مہمانوں کا استقبال کرتی ہے

انہوں نے بتایا کہ ایک ہوٹل مالک نے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ ’ہمیں سفید رنگ سے کوئی رغبت نہیں بس یہ چادر بچھانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب گاہک کمرے میں داخل ہو تو اُسے صفائی ستھرائی کا معیار اچھا لگے اور وہ مطمئن ہوجائے کیونکہ ہوٹل میں رکنے والے صفائی ستھرائی پر خاص توجہ دیتے ہیں‘۔

اسٹیفن نے بتایا کہ ’کمرے کے وسط میں رکھے بیڈ کو دیکھ کر گاہک کو احساس ہوتا ہے کہ گویا کمرے کی کچھ دیر پہلے ہی اچھے طریقے سے صفائی ہوئی مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ سر سری صفائی کے بعد صرف بیڈ شیٹ ہی تبدیل کی جاتی ہے‘۔

دوسری جانب ماہر نفسیات سے ہونے والی بات چیت سے بھی اسٹیفن نے آگاہ کیا اور قارئین کو بتایا کہ ’سفید چادر کو بیڈ پر دیکھ کر صفائی کا تصور کرنا دراصل ایک نفسیاتی مسئلہ ہے کیونکہ اس سے انسان کو اطمینان ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہوٹل کے کمروں میں خفیہ کیمرے

ہوٹل مالک نے یہ بھی بتایا کہ سفید چار کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انہیں دھوتے ہوئے رنگ نہیں چھوڑتا جبکہ دیگر چادروں میں یہ خدشہ رہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہوٹلوں میں دستیاب دیگر کپڑے اور تولیے کا رنگ بھی سفید یا ہلکا اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ گاہک کو صفائی کا احساس ہو۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں