The news is by your side.

Advertisement

وہ غلطیاں‌ جن سے جسم کے مدافعتی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے

ہمیں توانا، صحت مند رکھنا اور جسم کو مختلف جراثیم کے حملوں سے بچانا ہمارے مدافعتی نظام کا بنیادی کام ہے۔ یہ نظام ہمہ وقت جراثیم اور مختلف قسم کے بیکٹریا سے متصادم رہتا ہے، لیکن عمر کے ساتھ جسم کا مدافعتی نظام کم زور پڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کوئی بھی فرد بڑی عمر میں مختلف طبی پیچیدگیوں‌ اور بیماریوں‌ کا زیادہ تیزی سے شکار ہوتا ہے. عمر رسیدہ افراد موسمی تبدیلیوں‌ کی وجہ سے بھی مختلف امراض کا شکار ہو جاتے ہیں.

جراثیم ہماری ناک اور سانس کی نالی کے ذریعے ہمارے جسم میں داخل ہوتے ہیں اور بیمار کر دیتے ہیں۔ نزلہ، کھانسی اور بخار کسی بھی فرد کی قوتِ مدافعت کی کم زوری کی علامات میں سے ایک ہیں۔ ماہرینِ طب مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے چند بنیادی باتوں کا خیال رکھنے اور احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

نیند سے ہماری جسمانی اور ذہنی صحت کا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ رات کو مناسب اور اچھی نیند سے محروم افراد نہ صرف تھکاوٹ کا شکار رہتے ہیں بلکہ نیند کی بے قاعدگی سے دوران خون سے متعلق مختلف امراض اور مٹاپے کا بھی مسئلہ لاحق ہو سکتا ہے۔

امریکا کے طبی محققین نے اس حوالے سے ریسرچ میں کہا ہے کہ دورانِ نیند جسم قدرتی طور پر ایک ایسا ہارمون پیدا کرتا ہے، جو مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے، مگر جب کوئی شخص وقت پر سونے اور پرسکون نیند کا عادی نہ ہو تو اس ہارمون کی افزائش پر برا اثر پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کو اوسطاً سات گھنٹے کی نیند انسان کے لیے ضروری ہے۔ اس کے ساتھ وقت پر نیند لینا صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق قوتِ مدافعت کی مضبوطی کا صحت بخش غذا اور مناسب خوراک سے بھی گہرا تعلق ہے۔ مختلف وٹامن، مناسب مقدار میں پروٹین اور لحمیات کے علاوہ کیلشیم سے بھرپور غذا جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی ہمارے امیون سسٹم کو توانا رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس سے مختلف جراثیم کا مقابلہ کرنے والے سیلز پیدا ہوتے ہیں۔ وٹامن حاصل کرنے کا ایک قدرتی ذریعہ تازہ ہوا اور سورج کی روشنی ہے۔ طبی ماہرین تازہ سبزیوں، پھلوں اور پینے کا صاف پانی استعمال کرنے زور دیتے ہیں، جو مجموعی جسمانی صحت برقرار رکھتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں