The news is by your side.

Advertisement

بچوں‌ کو گود میں لے کر بائیں‌ طرف رکھنے کے حیران کن فوائد

آپ نے دیکھا ہوگا کہ بیشتر والدین عام طور پر بچے کو گود میں لینے کے بعد الٹے یعنی کہ بائیں طرف رکھتے ہیں۔

بچوں کو بائیں طرف رکھنے کے حوالے سے بزرگ مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر مختلف باتیں پیش کرتے ہیں جبکہ طبی ماہرین اطفال بھی اس کی وجہ تلاش کرنے کے لیے کوشاں تھے۔

اس سے پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ سیدھے ہاتھ سے کام کرنے کی وجہ سے والدین یا بڑے بچوں کو گود میں اٹھا کر بائیں طرف رکھتے ہیں تاکہ گرفت مضبوط رہے اور وہ آسانی سے سنبھال سکیں۔

اب حال ہی میں اس حوالے سے تحقیق کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کی 70 سے 85 فیصد آبادی بچوں کو گود میں اٹھا کر بائیں ہاتھ یا حصے کی طرف رکھتی ہے کیونکہ اس کے پیچھے چھپی وجہ بہت دلچسپ ہے۔

ماہرین اطفال نے بتایا کہ الٹے ہاتھ سے کام کرنے والے زیادہ تر افراد بھی بچوں کو گود میں اٹھانے کے بعد بائیں طرف ہی رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بچوں کو تھپکنے سے نیند کیوں آجاتی ہے؟ ماہرین نے وجہ بتادی

ماہرین کے مطابق بچے کو بائیں پہلے میں اٹھانے سے بچے اور ماں کے درمیان سماجی اور جذباتی تعلق بڑھتا ہے جبکہ اگر باپ اسی طرح گود میں لے تو اُس کے ساتھ بھی سماجی تعلق گہرا ہوتا ہے۔

نیچر ایکولوجی اینڈ ایورولوشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صرف انسان ہی نہیں بلکہ بیشتر ممالیہ بھی اپنے بچوں کو  گود میں اٹھا کر بائیں طرف ہی رکھتے ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ بچے کو گود میں لے کر الٹی طرف رکھنی کی وجہ کا تعلق دماغ سے ہے کیونکہ انسانی جسم کے بائیں حصے کا کنٹرول دماغ کے دائیں حصے کے پاس ہوتا ہے۔

تحقیق مین وضاحت کی گئی ہے کہ دماغ کا یہ حصہ تمام تر جذبات کا مرکز ہے، جو جسم کے بائیں طرف سے آنے والے پیغام کو موصول کرتا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ حیران کن طور پر یہ حصہ والدین کی اولاد سے محبت بڑھانے اور بیشتر احساس کا باعث بھی ہے جبکہ الٹا حصہ ماحول کو سمجھنے اور صورت حال سے نمٹنے سمیت تعلقات قائم کرنے، مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

تحقیقی ماہرین نے بتایا کہ دائیں طرف رکھنے سے بچہ ماں ، باپ کے دل کی دھڑکن کے قریب ہوتا ہے، جس سے اُس کے جسم کا درجہ حرارت کنٹرول میں رہتا ہے اور اُسے سکون بھی میسر آتا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ بچے کو دائیں طرف رکھنے والے والدین آسانی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے لیتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں