The news is by your side.

Advertisement

ناصر الملک کے نام پر اتفاق جمہوریت کے لیے کیا، قمر زمان کائرہ

لاہور: پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دینے والے تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ناصر الملک کو بطور نگراں وزیراعظم منتخب ہونے پر اس لیے اتفاق کیا کہ پی پی سیاست اور شفاف انتخابات پر یقین رکھتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی نے آئندہ انتخابات کے لیے باقاعدہ تیاریوں کا آغاز کردیا، اس ضمن میں سینٹرل پنجاب کے تین ڈویژن میں تیر کے نشان پر انتخابی میدان میں اترنے کے خواہش مندوں کے انٹرویوز کیے گئے۔

پی پی نے فیصل آباد، گوجرانوالہ اور دیہی لاہور سے خواہش مند امیدواروں کے انٹرویوز کیے، پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ ہم آئندہ عام انتخابات کے نتائج میں بڑا سرپرائز دے گی۔

اُن کا مزید کہان تھا کہ یوسف رضا گیلانی بنچ کے سربراہ کے نام پر اتفاق اس لیے کیا کیونکہ پیپلز پارٹی پاکستان کی سیاست پر یقین رکھتی ہے جسٹس ناصر الملک اچھی شہرت کے ملک ہیں، ہمیں یقین ہے عام انتخابات صاف شفاف ہوں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز وزیراعظم پاکستان اور قائد حزب اختلاف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے جسٹس (ر) ناصر الملک کو بطور نگراں وزیراعظم بنانے کا اعلان کیا تھا۔

ناصر الملک کون ہیں؟

سابق چیف جسٹس ناصر الملک 17 اگست 1950 میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر سوات میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق سوات کے ایک با اثر اور سیاسی پراچہ خاندان سے ہے۔

ناصر الملک کے والد سیٹھ کامران 70 کی دہائی میں سینیٹر رہے جبکہ ان کے بھائی سوات کے میئر بھی رہے۔

سنہ 1972 میں ناصر الملک نے پشاور یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے۔ وطن واپسی پر انہوں نے پشاور ہائی کورٹ میں وکالت کی پریکٹس شروع کردی جبکہ اپنی مادر علمی میں تدریس کے فرائض بھی انجام دیے۔

ناصر الملک نے پشاور ہائیکورٹ میں 17 سال وکالت کی پریکٹس کی۔ سنہ 1981 میں وہ پشاور ہائیکورٹ بار کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔ بعد ازاں دو بار ہائیکورٹ بار کے صدر منتخب ہوئے جبکہ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے۔

سنہ 1993 سے 1994 تک وہ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت کے ایڈوکیٹ جنرل کے عہدے پر فائز رہے جہاں انہوں نے صوبائی حکومت کے قانونی معاملات میں مشاورت کے فرائض انجام دیے۔

ناصر الملک سپریم کورٹ کے بائیسویں چیف جسٹس رہے۔ وہ 2013 سے 2014 تک قائم مقام چیف الیکشن کمشنر بھی رہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں