The news is by your side.

Advertisement

امریکا سے ڈاکٹریٹ‌ کرنے والا سعودی شہری اوبر کیوں چلارہا تھا؟

ریاض : امریکا سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والا سعودی نوجوان گھر بنانے کی خاطر اوبر چلانے لگا۔

دنیا بھر میں خصوصاً پاکستان اور بھارت جیسے ممالک میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ روزگار نہ ملنے یا کم آمدنی کے باعث جز وقتی ملازمت کو اپناتے ہیں تاکہ گھریلو اخراجات کو پورا کرسکیں۔

ایسا ہی ایک نوجوان تیل کی دولت سے مالا مال ریاست سعودی عرب میں مقیم ہے جس نے امریکا نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کررکھی ہے اس کے باوجود وہ سعودی عرب میں اوبر ٹیکسی چلاتے ہیں۔

اوبر چلانے کی وجہ روزگار کا نہ ہونا یا گھریلو اخراجات کےلیے مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ خوابوں کے گھر کی تعمیر ہے۔

المدینہ اخبار کے کالم نگار ڈاکٹر عبداللہ صادق دحلان نے اس بات کا انکشاف اپنے خصوصی کالم میں کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے جدہ کے ایک اسپتال سے گھر جانے کےلیے اوبر ٹیکسی بُک کی اور کچھ دیر بعد گاڑی آگئی۔

دحلان کہتے ہیں کہ ڈرائیور حیران کن پوشاک پہنے ہوئے اور اعلی درجے کے اخلاق اور شاندار تہذیب سے آراستہ تھا-

اسپتال سے گھر جاتے ہوئے گپ شپ شروع ہوگئی، میرے دل میں آرزو پیدا ہوئی کہ کاش اسپتال سے مکہ مکرمہ کا سفر ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا تاکہ اوبر ڈرائیور کے ساتھ اعلی درجے کے مکالمے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا۔

دحلان نے محسوس کیا کہ اوبر کا ڈرائیور کوئی عام شخص نہیں بلکہ منفرد شخصیت کا مالک ہے، جس کے بعد انہوں نے ڈرائیور سے تعارف کرانے کا اسرار کیا۔

شدید اصرار پر ڈرائیور نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ وہ امریکا سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کرکے آیا ہے اور یہاں اپنے خوابوں کا گھر حاصل کرنےکےلیے اوبر ٹیکسی چلا رہا ہے جس کی ماہانہ قسط 15 ہزار ریال ہے۔

نوجوان نے بتایا کہ وہ روزانہ پانچ گھنٹے اوبر چلاتا ہے جس سے وہ روزانہ پانچ سو ریال اوسطا کما لیتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں