برٹش کولمبیا : کینیڈا کے صوبے میں آسمان پر پراسرا روشنی کو خلائی مخلوق کی آمد قرار دیا جارہا ہے تاہم ماہرینِ فلکیات نے اصل حقیقت واضح کر دی۔
تفصیلات کے مطابق کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں آسمان پر مخروطی شکل کے پراسرار اجسام (UFOs) کی روشنی نے شہریوں میں تجسس اور خوف و ہراس پھیلا دیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز کے بعد جہاں لوگ اسے خلائی مخلوق کی آمد قرار دے رہے تھے، وہیں ماہرینِ فلکیات نے اس کی اصل حقیقت واضح کر دی ہے۔
منگل کی رات مقامی وقت کے مطابق 10:15 سے 10:30 کے درمیان آسمان پر روشنی کے عجیب و غریب گولے اور بادل نما مخروطی شکلیں دیکھی گئیں۔ سوشل میڈیا صارف پیٹسی سیمور سمیت کئی شہریوں نے اس منظر کی ویڈیوز شیئر کیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ روشنیاں فاصلہ طے کرنے کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ غائب ہو رہی تھیں۔
خلائی مخلوق یا راکٹ؟
پرنس جارج آسٹرونومیکل آبزرویٹری کے ماہر ملہار کیندورکر نے سی بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ یہ کوئی خلائی مخلوق نہیں بلکہ امریکی کمپنی SpaceX کے راکٹ کا کمال تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ ایک بصری دھوکہ تھا جسے ‘جیلی فش ایفیکٹ’ کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سورج کی روشنی اونچائی پر موجود راکٹ کے اخراج سے ٹکراتی ہے۔
یہ روشنی دراصل اسپیس ایکس کے ‘فالکن 9’ راکٹ کی تھی جسے منگل کی رات 9 بجے کیلیفورنیا کے وینڈن برگ سپیس فورس بیس سے لانچ کیا گیا تھا۔
روشنی کیوں پیدا ہوئی؟
کیندورکر کے مطابق جیسے ہی راکٹ اوپری ماحول میں پہنچتا ہے، اس سے نکلنے والی گیسیں پھیل کر ایک بادل نما شکل اختیار کر لیتی ہیں، جو زمین سے دیکھنے والوں کو کسی پراسرار خلائی جہاز کی طرح معلوم ہوتی ہیں۔
اگرچہ اس منظر نے برٹش کولمبیا کے باسیوں کو کچھ دیر کے لیے حیرت زدہ کر دیا، تاہم سائنسی وضاحت نے خلائی مخلوق سے متعلق تمام تر قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


