The news is by your side.

ول ڈیورانٹ: عالمی شہرت یافتہ مؤرخ اور فلسفی کا تذکرہ

ول ڈیورانٹ کو برصغیر میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے مختلف ادوار پر اپنی مشہور تصنیف کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ اسے ایک مؤرخ اور فلسفی کی حیثیت سے دنیا بھر میں شناخت اور اس کے کام کو پذیرائی ملی۔

ول ڈیورانٹ کی انگریزی میں تحریر کردہ کتابوں‌ کے اردو تراجم کی بدولت مطالعہ کے شائق اور بالخصوص تاریخ کے طالبِ علموں کو بہت فائدہ ہوا۔ اس کی تحریروں پر اعتراض اور ہندوستان میں اس کے خیالات سے اختلاف بھی کیا گیا، لیکن اس بات سے انکار نہیں‌ کیا جاسکتا کہ ول ڈیورانٹ کی تہذیب و ثقافت پر کئی جلدوں کی محنت نے ہندوستان میں لوگوں کو اپنی تاریخ کے بارے میں جاننے اور سمجھنے ہی کا موقع نہیں دیا بلکہ طلبا میں فلسفے کو پڑھنے کا شوق بھی پیدا کیا۔

اس مشہور مفکّر اور مؤرخ کی ہندوستان کی تاریخ، تہذیب، تمدن و فلسفہ پر مبنی کتب مستند مانی جاتی ہیں۔ ول ڈیورانٹ کا طرزِ بیان خاصا مختلف ہے۔ ‘گریٹ مائنڈز اینڈ آئیڈیاز آف آل ٹائمز’ اس کی وہ تصنیف ہے جس میں ہندوستان سے متعلق ابواب میں اس نے نہایت منفرد اسلوب اپنایا۔ تشبیہات، استعاروں اور تلمیحات نے اس کی تحریر کو پُراثر بنا دیا ہے۔ مذکورہ کتاب میں مصنّف نے ہندوستان کی تاریخ، تہذیب، تمدّن اور فلسفہ کا قبل از مسیح سے بعد از مسیح مفصّل تاریخی جائزہ پیش کیا ہے۔

ول ڈیورانٹ کی دیگر اہم اور مشہور ترین تصانیف میں ’اسٹوری آف فلاسفی‘ اور ’اسٹوری آف سویلائزیشن‘ شامل ہیں۔

اردو زبان میں ول ڈیورانٹ کی کتابوں کا ترجمہ عابد علی عابد، ڈاکٹر پروفیسر محمد اجمل، ظفرُالحسن پیرزادہ اور طیّب رشید و دیگر نے کیا ہے جنھیں بہت اہمیت حاصل ہے۔ ’اسٹوری آف سویلائیزیشن‘ ول ڈیورانٹ کی 11 جلدوں‌ پر مبنی کتاب ہے اور کئی سال کی محنت اور لگن سے مکمل کی گئی یہ کتاب مصنّف کا کارنامہ ہے۔ ول ڈیورانٹ کے یوں تو سارے کام بڑے ہیں لیکن اہم اور نمایاں تصنیف ’سٹوری آف فلاسفی‘ اور گیارہ جلدوں میں ’سٹوری آف سویلائزیشن‘ ہیں۔ اس کتاب میں ان کو اپنی اہلیہ ایریل کی مدد بھی حاصل رہی اور کہا جاتا ہے کہ ول ڈیورانٹ نے اس کے بعد مزید کوئی کام نہ بھی کرتے تو یہ گیارہ جلدیں ان کا نام باقی رکھنے کے لیے کافی تھیں۔

اس مصنّف کا پورا نام ول ڈیورانٹ نارتھ ایڈمز تھا۔ امریکا کے علاقے میساچوسٹس میں 5 نومبر 1885ء کو آنکھ کھولنے والے ول ڈیورانٹ کو اس کی تصانیف نے تاریخ و ادب کی دنیا میں بڑا مقام دلوایا۔ اسے 1968ء میں پلٹزر پرائز اور 1977ء میں صدارتی تمغا برائے آزادی سے نوازا گیا تھا۔

اسکول سے فراغت کے بعد ول ڈیورانٹ نیو جرسی شہر کے کالج میں‌ داخل ہوا اور گریجویشن کے بعد ایک اخبار سے منسلک ہوگیا۔ اس وقت تک وہ متعدد زبانیں‌ سیکھ چکا تھا اور اپنے اس شوق اور زبانوں پر عبور کی وجہ سے نیو جرسی کی ایک جامعہ میں لاطینی، فرانسیسی، انگریزی اور جیومیٹری پڑھاتا رہا۔ 1913ء میں شادی کے بعد اس نے ملازمت چھوڑ دی اور یورپ کے دورے پر نکل گيا بعد میں وہ ایک گرجا گھر میں درس دینے پر مامور کیا گیا۔

فلسفہ اور تاریخ ول ڈیورانٹ کا محبوب موضوع تھے۔ ول ڈیورانٹ نے 1917ء میں کولمبیا یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی تھی۔ اسی زمانے میں اس کی پہلی کتاب شایع ہوئی جس کا نام تھا، "فلسفہ اور سماجی مسائل۔” ول ڈیورانٹ کا خیال تھا کہ فلسفہ میں سماجی مسائل سے گریز کیا جاتا رہا ہے۔ اس کی دیگر کتب منتقلی (Transition) 1927، فلسفہ کی عمارت (The Mansions of Philosophy) 1929، زندگی کی تشریح (Interpretations of Life) 1970 میں شایع ہوئیں۔

1981ء میں آج ہی کے دن ول ڈیورانٹ اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگیا تھا۔ اس نے 96 سال کی عمر میں لاس اینجلس میں وفات پائی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں