The news is by your side.

Advertisement

کیا عمران خان خارجہ پالیسی میں ’تبدیلی‘ لاسکیں گے

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی بڑی ضرورت ہے، خطے میں اور باقی دنیا میں پاکستان کی موجودی اپنی تمام تر کم زوریوں کے ساتھ ’ڈو مور‘ کے بھاری بوجھ تلے دبی رہی ہے۔

پاکستانی انتخابات میں اس وقت تک بھاری اکثریت سے فتح حاصل کرنے والی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے پہلے اور غیر سرکاری خطاب میں خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دے کر خطے اور باقی دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔

پاکستان کو پہلی بار ایک ایسا وزیرِ اعظم ملنے والا ہے جو دنیا کے ساتھ پہلے ہی سے ایک واضح تعارف کا حامل ہے۔ برطانوی یونی ورسٹی سے لے کر بھارت کی گلیوں تک اس کی پہچان میں ایک بین الاقوامیت کا رنگ جھلکتا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان کی شخصیت ایک بین الاقوامی خصوصیت کی حامل شخصیت ہے۔

ایک ایسا ملک جسے استحکام کی اشد ضرورت ہے، جہاں گزشتہ پندرہ سال سے آنکھیں صرف امن کی جانب دیکھ رہی ہیں، وہ ملک پاکستان ہے۔ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بہتر تعلقات ہی وہ حکمت عملی ہے جس کے ذریعے خود پاکستان کو ترقی کی شاہ راہ پر ڈالا جا سکتا ہے۔ پُر سکون اعصاب کے ساتھ غیر سرکاری خطاب میں عمران خان کا تمام نفرتیں اور تنازعات کے خاتمے کا عندیہ دینا خطے کی ایک نئی تاریخ کی تشکیل کو راستہ دینا ہے۔

اپنی تشکیل کے پہلے دن سے اس بد قسمت ملک پر ایک ہی سوچ مسلط رہی ہے، پاکستان صرف دوسروں سے نفرت اور ٹکراؤ کی صورت میں قائم رہ سکتا ہے۔ ملکی خارجہ پالیسی سے لے کر بجٹ کی تشکیل تک یہی سوچ قومی اقدامات کا حاصل رہی۔ بھارت ہو یا افغانستان، ایران ہو یا روس، اس خطے میں ہمیشہ ایسا محسوس کیا گیا جیسے پاکستان ان کے وسط میں ’تنازعے کا مرکز‘ ہو۔ ملک کے اگلے متوقع وزیرِ اعظم عمران خان کو اگر اس صورتِ حال کا ادراک ہوا ہے تو یقیناً ملک کو تبدیلی کے راستے پر گام زن ہوتے دیر نہیں لگے گی۔

بھارت کے ساتھ جب ہمارے ہمیشہ کے کشیدہ تعلقات کا ذکر آتا ہے تو ایک چیز دونوں ممالک کے درمیان مشترک ہوتی ہے اور یہ مشترک چیز ہماری ’لڑائی‘ پر ہنستی ہے۔ غربت وہ چیز ہے جو ہمیشہ نظر انداز کر دی جاتی ہے۔ غربت کو ایک ’ولن‘ بنا دیا جاتا ہے۔ یہ بین الاقوامی تعلقات کا ایک اہم نکتہ ہے کہ ممالک کے درمیان تعلقات کی تشکیلِ نو کی حکمتِ عملی مقامی سطح پر معاشی حالت پر اثرات ڈالنے کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔ چناں چہ اگر پاکستان چاہتا ہے کہ برّ صغیر میں غربت میں کمی آئے تو سب سے پہلے بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی طرف دیکھنا ہوگا۔

پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ تعلقات کی استواری کا معاملہ ملک کی خارجہ پالیسی کا مشکل ترین حصہ رہی ہے۔ یہ خطے کی سطح پر سیاسی حکمتِ عملی سے لے کر اندرونی استحکام کی حکمتِ عملی تک ایک ایسا معاملہ رہا ہے جس میں مداخلت سیاسی قوتوں کی پہنچ سے باہر رہی ہے۔ کیا عمران خان صرف مقامی سطح پر ’کرپشن‘ میں کمی کا ہدف لے کر قومی منظرنامے میں داخل ہوئے ہیں یا وہ خطے کی سطح پر اور بین الاقوامی معاملات میں ذہانت کے ساتھ ’اسٹروک‘ کھیل پائیں گے۔ یہ وہ سوال ہے جو تحریکِ انصاف کی قوت کی وضاحت کرے گا۔


تجزیے کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ تجزیے کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں