site
stats
عالمی خبریں

باغیوں کے سامنے کبھی ہتھیار نہ ڈالنا، اب جنت میں ملاقات ہو گی، مقتول یمنی صدر کی وصیت

یمن : یمن کے سابق مقتول صدر علی صالح نے اپنی مبینہ وصیت میں کہا ہے کہ وطن بڑی قیمتی چیز ہے جس کے حوالے سے غفلت برتنے والے ہمیشہ نقصان میں رہتے ہیں اور کبھی اپنی سرزمین حوثی قبائلیوں کے حوالے نہیں کرنا.

یہ مبینہ وصیت سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر علی صالح کی تنظیم جنرل پیپلز کانگریس کے وائس چیئرمین شیخ طارق العواضی کے بھائی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شائع کیا، ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر میں سابق صدر کے دستخط بھی موجود ہیں اور اس پر تاریخ ان کے قتل سے ایک روز قبل کی یعنی 3 دسمبر 2017 درج ہے.


 یمن، سابق صدر و فیلڈ مارشل علی عبداللہ، استعفیٰ سے قتل تک


مبینہ وصیت میں حوثی باغیوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے سابق صدر علی عبداللہ نے اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تم لوگوں وصیت مل جائے تو یہ جان رکھو کہ وطن بڑا قیمتی ہے جس کی حفاظت کے لیے ذرا برابر بھی غفلت نہیں برتنی ہے چنانچہ میں اپنی اولاد اور عوام کو وصیت کرتا ہوں کہ حوثی باغیوں کے سامنے ہتھیار نہ ڈالیں اور یمن کو حوثیوں کے لیے ایک بھیناک خواب بنا دیں.

انہوں نے مزید لکھا کہ میں اس وقت خود کو غداروں کے درمیان دیکھ رہا ہوں جنہوں نے یمن کو سستے داموں فروخت کر ڈالا ہے میرا انجام چاہے کچھ بھی ہو لیکن یمن کے عظیم عوام کو میرا سلام پہنچے اور اب ہماری ملاقات جنت الفردوس میں ہو گی.

خیال رہے سابق یمنی صدر علی عبداللہ کے قریب رہنے والے یمنی صحافی سام الغباری نے بھی اس وصیت کی تصویر اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر جاری کی ہے جب کہ تجزیہ نگاروں کا دعوی ہے کہ وصیت کا متن، طرز تحریر اور واقعات کا تناظر وصیت کو درست ثابت کرتا ہے تاہم آزاد ذرائع اس کی تصدیق ہونا باقی ہے.

خیال رہے کہ 4 دسمبر 2017 کو حوثی باغیوں نے صنعاء میں پیش قدمی کرتے ہوئے ایک جھڑپ میں سابق صدر علی عبداللہ کے گھر کو نشانہ بنایا تھا جس کے باعث ان کا گھر مکمل طور تباہ ہوگیا تھا جب کہ سابق صدر اُس وقت گھر میں موجود تھے جس کے بعد ان کی لاش کی ویڈیو کلپ بھی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top