The news is by your side.

Advertisement

’آڈٹ رپورٹ جمع کرادیں گے، چیف جسٹس جوبات کرتے ہیں درست کرتے ہیں‘

کراچی: وزیرریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے کہ آڈٹ رپورٹ ہماری نہیں 2017 کی ہے، چیف جسٹس جوبات کرتے ہیں درست کرتے ہیں، ہماری آڈٹ رپورٹ 30جون کے بعد جمع کرادی جائے گی۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’پاورپلے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ ہم نے 24نئی ٹرین چلائیں، 70لاکھ مسافروں کا اضافہ کیا، سانحہ تیزگام کے بعد ہٹائے گئے حکام میں سینئر افسران بھی شامل ہیں، عدالت نے 15دن کے بعد ایم ایل ون کی بھی رپورٹ مانگی ہے، ٹرینوں کی رفتار 80سے بڑھاکر160کلو میٹر فی گھنٹہ پر لے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم ایل ون کے لیے سپریم کورٹ نے ہدایت کی جو اچھی بات ہے، ایم ایل ون سے متعلق اسدعمر کو رپورٹ جمع کراچکے ہیں، ٹینڈر حکومت کی جانب سے ہی جاری کیا جانا چاہے، ایم ایل ون پشاور سے کراچی تک نیا ٹریک ہوگا اور 8گھنٹے میں مسافر پہنچےگا، ایم ایل ون بلٹ ٹرین چلانے کے قابل نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے شیخ رشید سے 2 ہفتے میں ریلوے کا بزنس پلان طلب کرلیا

انہوں نے بتایا کہ ایم ایل ون بھی چین کے تعاون سے مکمل کیا جاسکتا ہے، ایم ایل ون کے انتظار میں ریل ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف گئی، ریلوے میں کرپشن ختم نہیں کرسکتا تو کم ضرور کروں گا، ٹی ایف اے کے ملازمین کی حکم امتناع کے بعد نشاندہی اور کارروائی ہوگی، ایم ایل ون آجائے تو ہمیں ہائی پر وفائل ایڈوائزر چاہیے ہوں گے۔

شیخ رشید کا پروگرام میں کہنا تھا کہ ایم ایل ون منظور ہوجائے تو وزیراعظم سے کہیں گے 3اہم ایڈوائز ردیں، ریلوے کی ایک مرلہ زمین بھی کسی کو نہیں دی، 32 کلومیٹر کے سی آر لوگوں سے خالی کرائی ہے، 6کلومیٹر میں بڑا مسئلہ ہے، 6 کلومیٹر کی زمین خالی کرانے کے لیے ہمیں سندھ حکومت کی ضرورت ہوگی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں