The news is by your side.

Advertisement

کنتے خوش نصیب مسجد نبوی کی صفائی کی سعادت حاصل کریں گے؟

ریاض : خادم الحرمین الشریفین کی جانب سے مسجد نبوی کی صفائی کے لیے 1500 افراد کا انتخاب کیا گیا ہے جس میں 1320 مرد جبکہ 200 خواتین شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مسجد نبوی شریف صلی اللہ علیہ وسلم میں صفائی کے حوالے سے امور انجام دینے کے لیے 35 جدید ترین صفائی کی مشینیں زیر استعمال رہتی ہیں، حرم مدنی سے روزانہ 45 ٹن کچرا اٹھایا جاتا ہے۔

مقامی میڈیا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ مسجد میں آنے والوں کے جوتے رکھنے کے لیے 2800 شیلف فراہم کیے گئے ہیں، ان باتوں کا انکشاف مسجد نبوی شریف میں صفائی اور قالینوں کی نگراں انتظامیہ کے سربراہ خالد الرحیلی نے سعودی اخبار سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔

الرحیلی کے مطابق مسجد نبوی شریف کے اندر، باہر اور اس کی چھت کی صفائی کے لیے 1320 مرد کارکنان مختص ہیں جب کہ 200 خواتین کارکنان مسجد میں خواتین کے حصے میں صفائی اور متعلقہ امور انجام دیتی ہیں۔

مسجد کی چھت، اس کے فرش اور راہ داریوں کو روزانہ 3 مرتبہ دھویا جاتا ہے جب کہ بارشوں اور گرد و غبار کے طوفان کے موقع پر دھلائی اور صفائی کا عمل روزانہ 5 مرتبہ انجام دیا جاتا ہے، اس مقصد کے لیے 35 عدد جدید ترین مشینیں استعمال ہوتی ہیں۔

الرحیلی نے بتایا کہ مسجد نبوی شریف کے اطراف بیت الخلا کے 18 سیکشن ہیں جن میں 5 سیکشن خواتین کے لیے ہیں۔ ہر سیکشن تین منزلوں پر مشتمل ہے، اس طرح بیت الخلا کی مجموعی تعداد 2514 بنتی ہے۔

عرب خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ معذور افراد کے لیے علاحدہ سے بیت الخلا کا سیکشن موجود ہے، تمام بیت الخلاں کو روزانہ 3 مرتبہ پانی اور صفائی کے مواد سے دھویا جاتا ہے، اس کے علاوہ ہر نماز کے بعد بھی صفائی کی جاتی ہے۔

عرب خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مسجد کے اطراف 23 وضو خانے موجود ہیں جب کہ مزید 7 زیر تعمیر ہیں۔

مسجد نبوی شریف میں صفائی اور قالینوں کی نگراں انتظامیہ کے سربراہ کے مطابق حرم مدنی کے اندر، اس کی چھت پر، اس کے صحنوں اور توسیع میں 16 ہزار سے زیادہ قالین بچھے ہوتے ہیں۔

ان قالینوں کو دن میں تین مرتبہ مشیوں کے ذریعے صاف کیا جاتا ہے جب کہ ان پر لگی یا گری گندگی کو صاف کرنے کے لیے شرعی طریقے سے دھو کر پاک کیا جاتا ہے۔

مقامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بقیہ قالینوں کو مقرر کردہ شیڈول کے مطابق خصوصی مشینوں کے ذریعے صاف کیا جاتا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں