The news is by your side.

اسمبلیوں کی تحلیل پر عام انتخابات ہوں گے یا ضمنی؟

عمران خان کے اعلان کے بعد اگر پنجاب، کے پی اور گلگت بلتستان کی اسمبلیاں تحلیل ہوئی تو پھر عام انتخابات ہوں گے یا ضمنی یہ الیکشن کمیشن نے بتا دیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پنڈی جلسے میں تمام اسمبلیوں سے باہر آنے کے اعلان کے بعد الیکشن کمیشن بھی اس سے متعلق واضح موقف آگیا ہے۔

ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کی جانب سے صوبائی اسمبلیاں تحلیل کی جاتی ہیں تو قومی نہیں صرف متعلقہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن دوبارہ ہوگا اور جتنے بھی اراکین مستعفی ہوں گے ان حلقوں میں 60 روز کے اندر ضمنی انتخابات کرا دیں گے۔

کیا ایک ہی سال میں ضمنی اور عام انتخابات کرانا مشکل ہوگا؟ اس سوال کے جواب میں ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ایک ہی سال میں ضمنی اور عام انتخابات کرانا مشکل ہے لیکن ہم قانون کے پابند ہیں۔ حلقہ بندیاں اور بلدیاتی انتخابات بھی مشکل کام تھے مگر ہم نے کیے تو اگر اس معاملے میں بھی مشکل ہے مگر ہم قانون کے مطابق انتخابات کرائیں گے۔

ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ کسی بھی صوبائی حلقے میں انتخابات پر تقریباً 5 سے 7 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ اگر پنجاب اور کے پی کی اسمبلیوں کے تحلیل ہونے پر وہاں دوبارہ انتخابات ہوئے تو ان پر کم از کم ساڑھے 22 ارب روپے خرچ ہوں گے۔

 

یاد رہے کہ اگر پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کی جاتی ہیں تو الیکشن کمیشن کو دونوں صوبوں میں مجموعی طور پر 411 حلقوں میں ضمنی انتخاب کرانا ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں