The news is by your side.

Advertisement

افغانستان میں گزشتہ 20 سال میں ڈیڑھ لاکھ افراد مارے گئے: سابق امریکی نیوی سربراہ

کراچی: امریکی نیوی کے سابق سربراہ اور جوائنٹ چیف ایڈمرل ولیم آرتھر اووینز نے افغانستان پر گفتگو کرتے ہوئے وہاں موجود گزشتہ بیس برسوں کی امریکی موجودگی کے دوران ہونے والی انسانی تباہی کو مذکور کیا۔

دوسری افغانستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی نیوی سربراہ نے بیس برسوں کو یاد کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ افغانستان میں ہم کیا کرنا چاہتے ہیں اور تبدیل ہوتی صورت حال میں کیا کرنا چاہیے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ افغانستان میں گزشتہ 20 سال میں ڈیڑھ لاکھ افراد مارے گئے، ہمیں اب مستقبل کو نئے طریقے سے دیکھنا ہوگا۔

سابق نیوی سربراہ نے روس کے خلاف امریکی پالیسی پر بھی بات کی، انھوں نے کہا امریکا نے جو نیوی کی حکمت عملی بنائی وہ سویت یونین کو دباؤ میں لینے کی تھی، امریکا اپنی آب دوز اور ایئر کرافٹ کیریئر کو روسی سمندروں میں رکھتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ قوموں کو مستقبل دیکھنے میں مشکل کا سامنا ہے، چین وہ ملک ہے جس نے مستقبل کو دیکھ لیا ہے، آئندہ 20 سال میں چین معاشی لحاظ سے پہلے نمبر پر ہوگا، امریکا نے ٹینکوں، طیاروں اور بحری جہازوں میں بہت سرمایہ کاری کی لیکن بعد میں ان کی تعداد آدھی کر دی، امریکا اور پاکستان کے تعلقات مضبوط ہونے چاہیئں، اپنی آئندہ نسل کے لیے آئندہ بیس برسوں کے لیے پاکستان کے بارے میں حکمت عملی بنانا ہوگی۔

پاکستان کو افغانستان کی غذائی قلت کو پورا کرنا ہوگا: سابق عہدے دار عالمی بینک

جوائنٹ چیف ایڈمرل ولیم آرتھر اووینز نے کہا میرے تجربے کے مطابق ہم اچھے لوگ ہیں، مسلمان، یہودی، کرسچن، پاکستانی، بھارتی، امریکی اور چین سب اچھے ہیں، ہمیں لیڈر شپ برا بنا دیتی ہے، ہمیں عوامی سطح پر تعلقات کو فروغ دینا ہوگا، اور ترجیحی طور پر ایک دوسرے کے ملکوں میں طلبہ کے دورے کرانا ہوں گے، بالخصوص چین کے پاس 20 سال کا وژن ہے، جو دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں