The news is by your side.

Advertisement

اونٹوں والا علاج…

”حُسن اور سفاکی کی سرزمینیں“ اُن مضامین کے اردو تراجم پر مشتمل ہے جو دنیا میں انسانی بستیوں‌ اور لوگوں پر ٹوٹنے والی آفات اور مختلف النّوع ابتلاؤں کی داستان سناتے ہیں۔

اسی کتاب میں ایک مضمون ‘ایک غلام نیویارک میں’ (A Slave in New York) بھی شامل ہے جس کے مترجم اجمل کمال ہیں۔ یہ مضمون ولیم فنیگن (William Finnegan) کا تحریر کردہ ہے اور نیویارکر کے 24 جنوری 2000ء کے شمارے کا حصّہ تھا۔ ستّر سالہ ولیم فنیگن امریکی صحافی ہیں اور مشہور جریدے نیویارکر سے بطور اسٹاف رائٹر وابستہ رہے ہیں۔ وہ افریقی ممالک سے متعلق کئی کتابوں کے مصنّف بھی ہیں۔ یہاں ہم اس مضمون سے ایک اقتباس پیش کررہے ہیں۔

اس مضمون میں مصنّف نے موریتانیہ کے ایک غلام کی کہانی بیان کی ہے۔ ایک ہی رنگ اور نسل سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان آقا اور غلام کا یہ روایتی نسبی رشتہ ہمارے فیوڈل سماج کے اس رواج سے قریبی مماثلت رکھتا ہے جس کے تحت انسانی خاندانوں کی ایک کثیر تعداد کو ”کم اصل“ ، ”کمّی“ ، ”نیچ ذات“ یا ”خدمتی قومیں“ قرار دے کر زمین کے مالک "اصیل” گھرانوں کی ہر طرح کی خدمت پر زندگی بھر مامور رکھا جاتا ہے۔

”مجھے ”اونٹوں والا علاج“ یاد آیا جس کے بارے میں مَیں نے پڑھا تھا؛ یہ اذیت دینے کا ایک طریقہ تھا جو سرکشی پر آمادہ غلاموں کے لیے مخصوص تھا۔“

”موریتانیہ کے بارے میں ہیومن رائٹس واچ نامی تنظیم کی ایک رپورٹ میں اس طریقے کی تفصیل بیان کی گئی تھی: غلام کی ٹانگیں ایک ایسے اونٹ کے پہلو سے باندھ دی جاتی ہیں جسے کوئی دو ہفتوں تک پانی سے محروم رکھا گیا ہو۔ پھر اونٹ کو پانی پینے کے لیے لے جایا جاتا ہے اور جوں جوں اونٹ کا پیٹ پھولتا ہے غلام کی ٹانگیں، رانیں اور جانگھیں آہستہ آہستہ چرتی چلی جاتی ہیں۔“

رپورٹ میں ایک مقامی اطلاع دہندہ کے حوالے سے کہا گیا تھا: ”میں ایک ایسے غلام سے واقف ہوں جو بوغے کے مغرب میں شرت کے مقام پر 1988ء میں اس اذیت سے گزرا تھا۔ اس کے آقا کو شک تھا کہ وہ فرار ہونا چاہتا ہے، کیونکہ وہ ایک سڑک پر دیکھا گیا جہاں اس کا کوئی کام نہ تھا۔ علاوہ ازیں، وہ منھ پھٹ جوان آدمی تھا جو اپنے آقا اور اس کے گھر والوں کو جواب دیتا تھا اور اس نے صاف کہہ دیا تھا کہ اسے غلاموں والی زندگی پسند نہیں۔“

”اسے پکڑ کر اونٹوں والے علاج سے گزارا گیا۔ اُس وقت اس کی عمر سولہ سال تھی۔ وہ اب بھی اپنے آقا کے خاندان کے ساتھ رہتا ہے، لیکن اب اتنا اپاہج ہو چکا ہے کہ کوئی کام کرنے کے قابل نہیں رہا۔“

Comments

یہ بھی پڑھیں