The news is by your side.

Advertisement

کس شاعر کی قبر پر لکھا ہوا ہے؟ “دنیا کا بدترین شاعر”! جانیے

شاعری کا ذوق رکھنے والے اکثر احباب جانتے ہوں گے کہ دنیا میں کتنے معروف شعراء کرام گزرے ہیں لیکن بہت سے ایسے گمنام شاعر  بھی ہیں جن کے کلام تو لوگوں کو ازبر ہیں لیکن صاحب کلام کے نام سے ناواقف ہیں۔

ایسے ہی ایک شاعر بھی اس دنیا میں گزرے ہیں جو گمنام تو نہیں البتہ ناکام شاعر کے لقب سے مشہور تھے یہی نہیں ان کی موت کے بعد قبر کے کتبے پر بھی “دنیا کا بدترین شاعر” لکھا گیا۔

انسانی تاریخ میں انگریزی زبان کے سب سے بُرے شاعر کا لقب جس شاعر کو دیا گیا اور انہوں نے یہ لقب بخوشی قبول بھی کیا کیونکہ ان کیلئے یہ لقب کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔

سن 1825 میں ایڈنبرگ میں پیدا ہونے والے اس شاعر کا نام ولیم ٹوپاز میک گونیگل تھا، دلچسپ بات یہ کہ انہوں نے 1878ایک بار اس وقت کی ملکہ وکٹوریہ کے ساتھ ایک شام چائے بھی پی جس کی انہیں دعوت بھی نہیں دی گئی تھی۔

ہوا کچھ یوں کہ ایک شرارتی نوجوان نے انہیں ملکہ وکٹوریہ کی جانب سے ایک فرضی جھوٹا خط لکھ دیا کہ ملکہ آپ کے ساتھ چائے پینے کی خواہشمند ہیں جس پر انہوں نے یقین کرلیا اور وہ خط لے کر محل پہنچ گئے۔

صورتحال دیکھ کر ملکہ وکٹوریہ کو ان پر ترس آگیا لیکن باتوں باتوں میں ملکہ نے ان سے کہا کہ آپ برما کے سفید ہاتھی ہیں، جس کے بعد وہ ساری زندگی لوگوں کو بتاتے رہے کہ میں ہوں “وائٹ ایلی فینڈ آف برما”۔

ولیم ٹوپاز میک گونیگل اس قدر بدنام ہوگیا کہ جہاں بھی اپنی شاعری سناتا تو لوگ اسے ٹماٹر آلو اور دیگر سبزیاں مارتے، ولیم کا ایک بیٹا بھی تھا جو محکمہ پولیس میں ملازم تھا۔

ڈیوٹی سے واپس آکر وہ اپنے باپ کے ساتھ جایا کرتا اور وہ تمام سبزیاں جو اس کے والد کو ماری گئی تھیں انہیں جمع کیا کرتا تھا، ایک وقت ایسا بھی آیا جب اس نے لوگوں سے کہا کہ برائے مہربانی صاف سبزیاں مارا کریں۔

اٹھارہ  سو 95تک ان اتار چڑھاؤ کے باوجود میک گونیگل اپنے آبائی شہر ایڈنبرا کی ایک اہم شخصیت بن گیا تھا۔ اتنی طویل اور سخت جدوجہد کے بعد حاصل کی جانے والی کامیابی اگرچہ کم عرصہ تک رہی لیکن آخر کار اس نے عوامی تعریف حاصل کرلی۔

وہ 1902 میں اپنے گھر میں بے ہوشی کے عالم میں چل بسا اورمقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا لیکن اس کی قبر پر وہ الفاظ آج بھی اسی طرح کندہ ہیں جسے وہ باعث اعزاز سمجھتا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں