The news is by your side.

ولیم والس کا تذکرہ جس کا سَر تن سے جدا کر کے لندن برج پر رکھ دیا گیا تھا

1286ء میں اسکاٹ لینڈ کا بادشاہ وفات پاگیا اور شاہی خاندان میں کوئی فرد نہیں‌ تھا جسے تاج اور تخت سونپا جاسکے۔ تب انگلستان کے بادشاہ ایڈورڈ اوّل سے درخواست کی گئی کہ وہ ریاست کے لیے نیا بادشاہ منتخب کرے۔

اسکاٹ لینڈ اس زمانے میں‌ انگلستان کا وفادار اور بڑا حلیف تھا۔ اس سلطنت میں بادشاہت کو دو سو سال بیت چکے تھے، لیکن جب یہ تسلسل ٹوٹ گیا تو ایڈورڈ اوّل نے جان بلیول کا انتخاب بادشاہ کے طور پر کیا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ 1292ء کو تاج پوشی کی رسم ادا کی گئی اور کچھ عرصہ بعد فرانس کے خلاف جنگ چھڑ گئی۔ انگلستان نے اپنے منتخب کردہ بادشاہ سے فوجی مدد چاہی تو اس نے فرانس کے خلاف سپاہ بھیجنے سے انکار کردیا۔ یہی نہیں‌ بلکہ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے فرانس سے اتحاد اور روابط بڑھانے کا فیصلہ کیا اور وہ وقت بھی آیا جب اس ضمن میں‌ باقاعدہ معاہدہ عمل میں لایا گیا۔

ایڈورڈ اوّل نے اسکاٹ لینڈ کے بادشاہ کے اس عمل کو نافرمانی اور غداری جیسا جرم تصوّر کیا اور اسکاٹ لینڈ پر چڑھائی کر دی۔ انگلستان کا اسکاٹ لینڈ پر قبضہ وہاں کے عوام نے قبول نہ کیا اور ایک دلاور ولیم والس اور دوسرے راہ نماؤں کی سرکردگی میں آزادی کی جنگ لڑی۔ یہ جنگ کئی دہائیوں تک جاری رہی۔

یہاں ہم اسکاٹ لینڈ کے مشہور جنگجو ولیم والس کی زندگی کی جھلکیاں‌ پیش کررہے ہیں‌ جسے انگریزوں‌ نے گرفتار کرلیا تھا۔ انگریز فوجی اس جنگجو کو لندن لے گئے تھے جہاں‌ اس پر غداری کا مقدمہ قائم کیا گیا اور اُسے پھانسی دے دی گئی۔ ولیم والس کو اسکاٹ لینڈ میں‌ ایک عظیم جنگجو اور دلاو و شجیع کے طور پر یاد کیا جاتا ہے اور اس کا نام آج بھی تاریخ میں‌ زندہ ہے۔

ولیم والس کے سنہ پیدائش پر اختلاف ہے اور قیاس ہے کہ وہ 1270ء میں پیدا ہوا تھا۔ 23 اگست 1305ء کو انگریزوں نے سزائے موت دے دی تھی۔ انگلستان کے اپنے وطن پر قبضے کے خلاف مزاحمت کی قیادت کرنے والے ولیم والس کی زندگی پر 15 ویں صدی عیسوی میں ایک کتاب لکھی گئی تھی جس میں حقائق سے زیادہ افسانوی انداز اپنایا گیا تھا۔ ہالی وڈ کے نام وَر ہدایت کار میل گبسن نے اسی ناول سے ماخوذ "بریو ہارٹ” نامی فلم بنائی تھی جو بہت مشہور ہے۔

اسکاٹ لینڈ کے اس جنگجو کے والد بھی 1291ء میں انگریزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے تھے۔ ولیم والس کی انگریزوں سے نفرت اور سپاہیوں سے بھڑ جانے کے بارے ایک مشہور قصّہ ہے کہ ایک مقامی بازار میں مچھلیاں پکڑنے کا مقابلہ ہو رہا تھا اور اس میں دو انگریز سپاہیوں نے ولیم والس کو للکارا جس کے بعد وہ آپس میں‌ جھگڑ پڑے، اور دونوں انگریز سپاہی مارے گئے۔ اس پر انگریز سرکار نے اس کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا۔

ولیم والس نے ڈونڈی شہر کے انگریز گورنر کے بیٹے کو قتل کر کے اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے لیے اپنی مزاحمت کا باقاعدہ آغاز کیا تھا۔ مؤرخین بتاتے ہیں‌ کہ ستمبر کے مہینے میں 1297ء کو ولیم والس کے ہاتھوں جنگِ اسٹرلنگ برج میں انگریزوں کو شکست ہوئی تھی۔ اس جنگ میں اسکاچ دستوں کی قیادت والس کی طرح ایک جنگجو اینڈریو مَرے نے کررہا تھا اور انھوں نے انگریز افواج کو بھاری نقصان پہنچایا تھا۔ تاہم 1298ء میں والس کو ایک لڑائی کے دوران انگریزوں کے ہاتھوں شکست اٹھانا پڑی اور تحریکِ آزادی کے سپاہیوں کو زبردست جانی نقصان دیکھنا پڑا تھا۔ اس پر دلبرداشتہ ہوکر والس وطن چھوڑ کر فرانس چلا گیا اور وہاں اسکاٹ گارڈز میں شمولیت اختیار کرکے انگلستان کے خلاف دو جنگوں میں شرکت کی، لیکن 1303ء میں واپس اپنے وطن آگیا جہاں موت اس کی منتظر تھی۔

وطن لوٹنے کے بعد ایک اسکاٹ سپاہی کی مخبری پر والس کو گرفتار کر لیا گیا۔ انگریزوں نے اسے برہنہ کر کے شہر میں گھمایا اور مشہور ہے کہ سزائے موت پر عمل کرنے کے لیے بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اس کے جسم کے کئی ٹکڑے کر دیے گئے۔ مؤرخین کہتے ہیں‌ کہ اس کا سَر لندن برج پر ایک نیزے کی انی پر رکھ دیا گیا تھا اور باقی ماندہ جسم شہروں‌ شہروں پھرایا گیا تاکہ اسکاٹ لینڈ کے باشندے آزادی کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں اور ولیم والس کے حشر سے عبرت حاصل کریں۔

اسکاٹ لینڈ کی تحریکِ آزادی کے اس ہیرو سے منسوب تلوار کئی سال تک ڈومبرٹن قلعہ میں موجود رہی اور بعد میں قومی یادگار کے طور پر محفوظ کر لی گئی۔

ولیم والس تاریخ کا وہ کردار ہے جس پر پہلی کتاب جو افسانوی رنگ لیے ہوئے ہے، 1470ء کے قریب تحریر کی گئی تھی۔ 19 ویں صدی میں اس پر کہانیاں اور افسانہ بھی لکھا گیا اور بعد میں ایک ناول بھی منظرِ عام پر آیا۔ 1995ء میں میل گبسن نے اس کردار کو اپنی فلم میں‌ جگہ دے کر دنیا بھر میں نمایاں‌ کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں