site
stats
انٹرٹینمںٹ

جیتو پاکستان میں ’’ سو تولہ سونے ‘‘ کے لیے مقابلہ آج ہوگا

کراچی : سی ای او اے آر وائی سلمان اقبال نے کہا کہ اب پاکستان کے سب سے مقبول ترین گیم شو جیتو پاکستان میں حصہ لینے والے شرکاء سو تولہ سونا بھی جیت سکیں گے۔

اس بات کا اعلان اے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک کے بانی اور سی ای او سلمان اقبال نے جیتو پاکستان کے گزشتہ پروگرام میں تالیوں کی گونج میں کیا جس کا وہاں موجود حاضرین نے بھرپورانداز میں خیرمقدم کیا جب کہ سوشل میڈیا پر بھی اس منفرد آفر کے چرچے عام ہیں اب دیکھنا ہے کہ آخر وہ کون سا خوش نصیب ہے جو سو تولہ سونا جیت کر اپنے گھر واپس لوٹتا ہے۔

خیال رہے گزشتہ روز کے جیتو پاکستان میں اس وقت دلچسپ صورت حال پید اہو گئی جب ایک شخص نے 50 تولہ سونا جیت لیا جس پرمیزبان فہد مصطفیٰ نے ازراہ مذاق کہا کہ اگلے پروگرام میں سو تولہ سونا کے لیے کھیلا جائے گا جس کے لیے وہاں موجود سی ای او سلمان اقبال سے اجازت مانگی تو انہوں نے بلا توقف حامی بھر لی اور لائیو پروگرام میں اس کا اعلان بھی کردیا۔


جیتو پاکستان اس وقت نہ صرف رمضان بلکہ سالہا سال مقبول رہنے والا پروگرام ہے جس نے شہرت کی بلندیوں مقبولیت کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں اور لوگ اس پروگرام کے انتظار میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سارے کام چھوڑ کر ٹیلی ویژن پرنظریں جمائے بیٹھے رہتے ہیں لہذا اگر یہ کہا جائے کہ جیتو پاکستان کے باعث سڑکوں پر ویرانہ چھا جاتا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔

#JeetoPakistan #RamadanSpecial picture credit: @omarsa33d

A post shared by Pakistan’s Biggest Game Show (@jeeto.pakistan) on

اے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک اپنے شائقین کو تفریح کے ساتھ ساتھ ان کا معیار زندگی بلند کرنے کی پالیسی پرکاربند ہے جہاں اس گیم شو میں تحائف اور انعامات کی بارش کی جاتی وہیں بزرگ افراد کی اولین خواہش کوعمرہ ٹکٹ کی فراہمی سے پورا کرتا ہے اور دعائیں سمیٹتا ہے اسی طرح شانِ رمضان ہو یا شانِ افظار اس بات کو ترجیح پر رکھا جاتا ہے اور ان پروگرامز کے بہانے غرباء، مساکین اور مستحق افراد کی مالی مدد کا سلسلہ بھی جا رہتا ہے۔

جیتو پاکستان کامیابیوں کے پیچھے میزبان فہد مصطفیٰ کی اندازِ میزبانی کا بڑا ہاتھ ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے عوام کے محبوب ترین میزبان بن چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ پروگرام روز افزوں مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہا ہے اورشہرت کے نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top