The news is by your side.

Advertisement

افغانستان سے انخلا، امریکی جنرل کا اہم انکشاف منظرعام پر

واشنگٹن: افغانستان سے امریکا کا انخلا قصہ پارینہ بن چکا، کیا اب بھی امریکی کابل میں موجود ہے؟ اہم دعویٰ سامنے آگیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق افغانستان سے انخلا کے موقع پر ستاون ہزار افراد کو کابل سے نکال کر قطر منتقل کیا، تاہم اب بھی چودہ سو کے قریب افراد امریکی بیس پر موجود ہیں۔

بریگیڈیئر جنرل جیرالڈ ڈونوہ نے صحافیوں کو بتایا کہ قطر سے نکالے جانے افراد میں سے کچھ ابھی امریکا میں ہیں جب کہ بعض یورپ میں ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ قطر میں اب تک موجود ایک ہزار چار سو افراد میں سے زیادہ تر کو جلد وہاں سے نکال دیا جائے گا جب کہ ایک چھوٹا سا گروپ جسے طبی امداد کی ضرورت ہے وہ وہاں سفر کے قابل ہونے تک رہے گا۔

جنرل جیرالڈ کا کہنا تھا کہ افغان اور دوسرے افراد کو الیودید بیس لے جایا گیا اور ایک وقت میں وہاں سترہ ہزار پانچ سو افراد بھی موجود تھے، انہوں نے بتایا کہ انخلا کے مشن کے دوران اس ایئربیس پر نو بچے بھی پیدا ہوئے۔

افغانستان سے جلدی انخلا کے بعد ہزاروں ایسے افراد جن کے پاس سفری دستاویزات نہیں تھے یا ان کی ویزا کی درخواستیں زیر غور تھی یا ایسے خاندان کے افراد جن میں سے کچھ کا امیگریشن اسٹیٹس کلیر نہیں تھا اب تیسرے ملک میں امریکا روانگی کے لیے انتظار کر رہے ہیں، ان افغانوں کو اب امریکہ میں داخلے کے لیے امیگریشن کی رکاوٹوں کو عبور کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد امریکا نے افغانستان سے تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار امریکی، افغان اور دوسرے ممالک کے شہریوں کو نکالا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں