The news is by your side.

Advertisement

میری عدالت میں کیس سنے بغیرسماعت مؤخرنہیں ہوتی، چیف جسٹس

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ میری عدالت میں کیس سنے بغیرسماعت مؤخرنہیں ہوتی، التواکی ایک صورت ہے وکیل انتقال کرجائےیاجج رحلت فرما جائے۔

تفصیلات کے مطابق ملتان میں تقریب سےخطاب چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کوئی اپنےگھرآئے تو وہ مہمان نہیں ہوتا، میں ملتان کواپنا گھرسمجھتاہوں یہاں سےرشتہ برسوں پرانہ ہےیہیں سےوکالت شروع کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ماضی میں عدالت میں بدمزگی کاتصورنہیں کیا جا سکتاتھا، مقدمات کی بھرمارکی وجہ سےشایدجج وکیل کووقت نہیں دےپاتے، اب مقدمات کی تعدادمیں اضافہ ہوگیالیکن جج کم ہیں میری بطورجج کوشش ہوتی ہےزیادہ سےزیادہ فیصلےکرسکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نئےوکلاکوکسی سینئرسےٹریننگ لیناضروری ہے،اب بڑی تعدادمیں نوجوان وکیل آگئےجنہیں روایتوں کاپتہ نہیں ہے،پہلےبیرسٹرزفیس نہیں لیتےتھےخدمت کرتےتھےاب ہرکیس میں ایک سینئر وکیل کےساتھ 2جونیئروکیل ہوتےہیں جب کہ جونیئروکیل ہی اتنےسارےہیں ان کےاستادبھی جونیئروکلاہی ہیں۔

جسٹس آٓصف سعید کھوسہ نے بتایا کہ میری عدالت میں کیس سنےبغیرسماعت مؤخرنہیں ہوتی، التواکی ایک صورت ہے وکیل انتقال کرجائےیاجج رحلت فرماجائے، جج جب فیصلہ سناتےہیں تووکیل اور پیچھےبیٹھےلوگ اورقاصدسنتاہے لیکن دلائل سننےکےبعدجب جج فیصلہ نہ کریں توجج اورقاصدمیں فرق نہیں ۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں