The news is by your side.

Advertisement

کوئٹہ: 3 دھماکے، 5 اہلکار شہید 7 زخمی

کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت میں 3 خود کش دھماکوں کے نتیجے میں 5 اہلکار شہید جبکہ 7 زخمی ہوگئے، سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 2 حملہ آوروں کو جوابی فائرنگ کر کے ہلاک کردیا۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق کوئٹہ کے علاقے میاں غنڈی میں دہشت گردوں نے ایف سی چیک پوسٹ کو بم دھماکے کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی جس پر فورسز نے بروقت جوابی کاروائی کی تو اسی دوران خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے تیسرا دھماکا ایئرپورٹ روڈ پر کیا جس میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، دہشت گردی کے نتیجے میں 5 سیکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 7 زخمی ہوئے۔

دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا تو دوسری جانب دہشت گردی کے نتیجے میں جاں بحق و زخمی ہونے والے افراد کو ایمبولینسس کے ذریعے  کوئٹہ کے سی ایم ایچ اسپتال منتقل کیا گیا۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر خود کش حملہ،5 اہلکارزخمی

اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے ایف سی چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جو ناکام رہی، سیکیورٹی فورس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے شرپسند عناصر کے مذموم مقاصد کو خاک میں ملا دیا۔

ڈی جی سول ڈیفنس کے مطابق میاں غنڈی میں جائے وقوعہ سے ملنے والی دو لاشیں خود کش حملہ آوروں کی ہیں،  تاہم دھماکے کے نتیجے میں کوئی اہلکار شہید نہیں ہوا۔

میاں غنڈی میں سیکیورٹی فورسز اور اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا کہ اسی دوران کوئٹہ ایک بار پھر زور دار دھماکے سے گونج اٹھا، نمائندہ اے آر وائی مصطفیٰ خان ترین کے مطابق پولیس کے اعلیٰ حکام کا قافلہ ایئرپورٹ روڈ پر رواں دواں تھا کہ اسی دوران تیسرا دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ : مختلف واقعات میں فائرنگ سے خاتون سمیت دس افراد جاں بحق

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکھٹے کرنے شروع کردیے جبکہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری بیان کے مطابق کوئٹہ میں ہونے والے تین دھماکوں میں 5 اہلکار شہید اور 7 زخمی ہوئے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے جوابی فائرنگ میں 2خودکش حملہ آوروں کو  ہلاک کیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں