The news is by your side.

شازما نے سارہ پر ہاتھ اٹھا دیا، ویڈیو دیکھیں

ڈرامہ سیریل ’وہ پاگل سی‘ کی گزشتہ قسط میں میں شازما نے سارہ پر ہاتھ اٹھا دیا۔

ڈرامہ سیریل ’وہ پاگل سی‘ میں بابر علی (احسن حیات)، حرا خان (سارہ)، زباب رانا (شازما)، عمر شہزاد (وہاج)، سعد قریشی (ذہین)، اسماعیل تارا، شازیہ گوہر ودیگر فنکار اداکاری کے جوہر دکھا رہے ہیں۔

آٹھویں قسط میں دکھایا گیا کہ شازما احسن کی لاڈلی بیٹی سارہ پر تھپڑ مارنے بڑھتی ہے لیکن وہ ان کا ہاتھ پکڑ لیتی ہیں۔

شازما بوا کو بول رہی ہوتی ہیں کہ ’میں آپ کو نوکری چھوڑنے کا نہیں کہہ رہی میں تو بس آپ کی صحت کی وجہ سے پریشان ہوں اتنا بڑا گھر سنبھالنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔‘

بوا کہتی ہیں کہ ’اب تو عرصہ ہوگیا یہ گھر اپنا ہی گھر لگتا ہے اور اس کو سنبھالنے میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘

شازما ان سے کہتی ہیں کہ ’یہ آپ کا گھر نہیں ہے یہ بات یاد رکھئے گا ورنہ اس گھر کو چھوڑتے ہوئے آپ کو بہت زیادہ تکلیف ہوگی ویسے بھی ملازمین کی ایک فوج ہے کچھ ملازم تو یہاں رہ کر اپنی اوقات ہی بھول گئے ہیں۔‘

اتنے میں سارہ آجاتی ہیں اور شازما کو کہتی ہیں کہ ’بوا اس گھر کی ملازمہ نہیں ہیں اگر آج کے بعد بوا سے اس انداز میں بات کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘

شازما کہتی ہیں کہ ‘تم سے زیادہ برا تو ویسے بھی کوئی نہیں ہے اور تم سے زیادہ خودسر لڑکی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔‘

بوا کے روکنے پر سارہ کہتی ہیں کہ تم نے بوا سے جس انداز میں بات کی ہے وہ ناقابل برداشت ہے بابا کو آنے دو۔‘

سارہ سے بوا کہتی ہیں کہ ‘میری وجہ سے ان سے نہیں بگاڑو، یہ تمہارے باپ کی بیوی ہے‘ اس پر سارہ کہتی ہیں کہ عزت ان کی جاتی ہے جو اس کے لائق ہو۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’میں اس جیسی عورت کو اپنے باپ کی بیوی تسلیم ہی نہیں کرتی کیونکہ یہ باپ کو بے قوف بنا کر ٹریپ کرکے اس گھر میں آئی ہے۔‘

سارہ کہتی ہیں کہ ’دیکھا نہیں چند ہی دنوں میں اس نے اپنا لائف اسٹائل بدل لیا ہے اور میرے باپ کے پیسوں سے اپنے پورے خاندان کو عیاشی کراتی پھر رہی ہے۔‘

سارہ یہیں پر بس نہیں کرتیں بلکہ کہتی ہیں کہ ’اس نے اپنی جاہل ماں کو ڈیفنس میں شفٹ کرلیا ہے۔‘

اس پر شازما بھڑک جاتی ہیں کہ اور کہتی ہیں کہ ’تم نے کیا کہا میری ماں کو تمہاری اتنی جرأت میری برداشت کا امتحان نہیں لو اور میرے صبر کا فائدہ نہ اٹھاؤ تم ابھی مجھے جانتی نہیں ہو جس دن جان گئیں تو منہ کے بل گرو گی۔

سارہ کہتی ہیں کہ منہ کے بل میں نہیں تم گرو گی اور سارا زمانہ دیکھے گا، میرے باپ نے ترس کھا کر شادی کی عزت دی تحفظ دیا اور تم اپنی اوقات بھول گئی ہو میرے بابا تمہیں جائیداد میں حصہ دیں گی اس خوش فہمی میں نہ رہنا بابا کی جائیداد ہر چیز پر ہمارا حق ہے۔

اور تم یہ بات اچھی طرح جانتی ہو میرے بابا اس شادی سے خوش نہیں ہیں محبت انہوں نے صرف میری ماں سے کی ہے تم جیسی عورتوں کو تو وہ۔۔۔۔۔۔۔اس پر شازما سارہ پر ہاتھ اٹھا دیتی ہیں کہ لیکن وہ ان کا ہاتھ پکڑ لیتی ہیں۔

اگلی قسط میں کیا ہونے جارہا ہے کیا احسن شازما کی چالاکیاں جان پائیں گے یا پھر بیٹی کو ہی غلط سمجھتے رہیں گے، یہ جاننے کے لیے ’وہ پاگل سی‘ کی اگلی قسط ضرور دیکھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں