جمعہ, مارچ 6, 2026
اشتہار

21 بلیاں، کتا اور اژدها رکھنے والی خاتون کے ساتھ کیا ہوا؟

اشتہار

حیرت انگیز

لندن: مشرقی لندن کے ایک فلیٹ میں 21 بلیاں، کتا اور ایک ازگر انتہائی گندی حالت میں رکھنے والی ایک خاتون پر پالتو جانور رکھنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق آر ایس پی سی اے نے جنوری 2025 میں اس وقت تحقیقات کا آغاز کیا جب ایک ویٹرنری سرجری نے شدید بیمار حالت میں لائی گئی ایک بلی پر تشویش کا اظہار کیا۔

بلی کو ہنگامی علاج فراہم کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم بعد ازاں اسے تکلیف سے نجات دینے کے لیے موت کی نیند سلا دیا گیا۔

اینمل ریسکیو آفیسر نے بلی کی ملکیت کا سراغ لگاتے ہوئے 38 سالہ ریچل زی ژی ین (Rachel Xie Yin) تک رسائی حاصل کی، تحقیقات سے معلوم ہوا کہ خاتون پہلے ہی قانونی طور پر جانور رکھنے سے تاحیات نااہل قرار دی جا چکی تھی۔ اس کے باوجود اس نے اپنے پالتو جانور مختلف ناموں سے متعدد ویٹرنری کلینکس میں رجسٹر کرا رکھے تھے۔

گزشتہ سال آر ایس پی سی اے کے افسران، پولیس کی معاونت سے، ہوکسٹن کے ایک فلیٹ پر پہنچے جہاں جانور انتہائی گندے اور خطرناک حالات میں رکھے گئے تھے۔

آر ایس پی سی اے کے انسپکٹر کا کہنا تھا کہ میں نے فضلے سے بھری ہوئی ٹرے دیکھیں، ایک پانی کا برتن تھا جسے پولیس نے میرے داخل ہونے سے کچھ دیر قبل رکھا تھا، اور کئی بلیاں اس کے گرد جمع تھیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فلیٹ میں ایک کتا آزادانہ گھوم رہا تھا جبکہ ایک سانپ (ازگر) ایک ویویریم میں رکھا گیا تھا، مگر اس کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے والا نظام بند تھا۔

تمام جانوروں کو تحویل میں لے کر ویٹرنری معائنے کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔ جانچ سے معلوم ہوا کہ نو بلیاں مختلف بیماریوں میں مبتلا تھیں اور ان کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کی جا رہی تھیں۔

4 لڑکیوں کی اجتماعی خودکشی، اہلخانہ نے پولیس کے آنے سے پہلی ہی لاشیں جلا دیں

کئی جانوروں پر غفلت کے واضح آثار تھے، جن میں جسم پر فضلے کے نشانات اور الجھی ہوئی کھال شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں بروقت اور مناسب ویٹرنری نگہداشت فراہم نہیں کی جا رہی تھی۔

ریچل زی ژی ین (21 جنوری) کو کورٹ میں پیش ہوئیں۔ انہوں نے جون 2015 میں عائد کی گئی تاحیات پابندی کی خلاف ورزی کا اعتراف کیا اور اپنی تحویل میں موجود نو بلیوں کی فلاح و بہبود یقینی بنانے میں ناکامی پر جرم قبول کر لیا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں