The news is by your side.

Advertisement

دبئی میں بیٹی پر تشدد کرنے کے جرم میں خاتون کو جیل

دبئی : متحدہ عرب امارات میں بیٹی پر تشدد کرنے اور حبس بے جا میں رکھنے کے جرم میں عدالت نے خاتون کو سزا سناتے ہوئے جیل منتقل کرنے کا حکم سنادیا۔

تفصیلات کے مطابق دبئی کی عدالت نے متحدہ عرب امارات میں مقیم اردن کی رہائشی خاتون کو اپنی بیٹی پر تشدد کرنے اور گھر میں قید رکھنے کے نوٹس کی سماعت کی۔

دبئی کی عدالت میں جج نے متاثرہ لڑکی کو گھرمیں قید رکھنے اور 20 سالہ بیٹے اور دو بیٹوں کے ساتھ مل کر تشدد کرنے کے جرم میں 50 سالہ خاتون کو سزا سناتے ہوئے جیل بھیجوانے کا حکم دے دیا۔

پولیس نے متاثرہ لڑکی کی شکایت کے بعد 66 سالہ باپ اور ایک بہن کو گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا تھا، جس میں جج نے لڑکی کو حبس بے جا میں رکھنے کی دفعات کے تحت سزا سنائی تھی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکی نے سنہ 2017 میں اپنے اہل خانہ کے خلاف شکایت درج کروائی تھی۔

متاثرہ لڑکی نے عدالت میں بیان دیا کہ ’ وہ سنہ 2009 سے اپنی والدہ سے نہیں ملی ہے‘۔

شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ ’کئی برس سے ماں نے اسے کمرے میں بند کر رکھا تھا، حتیٰ کے کھانا بھی دن میں ایک بار ہی دیتی تھیں، اور میرے بھائی اور دیگر دو بہنوں کے ہمراہ مجھ پر تشدد بھی کرتی تھیں‘۔

متاثرہ لڑکی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ میری دو بہنیں تشدد کرنے اور بے ہوش کرنے والے (اسٹن گن) ہتھیار استعمال کرنے میں میرے بھائی کی مدد کرتی تھی۔

متاثرہ لڑکی عدالت کو بتایا کہ ’اس کی والدہ کبھی ہاتھوں سے تشدد کا نشانہ بناتی تھی اور کبھی کبھی مارنے کے لیے ڈنڈے اور لاٹھی کا استعمال بھی کرتی تھیں، جس کے باعث میرے سامنے کے دانت بھی ٹوٹ چکے ہیں‘۔

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ شکایت درج کروانے والی متاثرہ لڑکی گھر سے بھاگ کر پولیس اسٹیشن آئی تو اس کی حالت کافی خراب تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکی نے اپنی 15 سالہ بہن کی مدد سے راہ فرار اختیار کی تھی جب ماں چھٹیاں منانے ملک سے باہر گئی ہوئی تھی۔

متاثرہ لڑکی کی 15 سالہ بہن کا کہنا تھا کہ ’ میں 6 برس کی عمر سے اپنے بھائی اور دیگر دو بہنوں کو اپنی والدہ کے ہمراہ اپنی بہن پرظلم و ستم کرتے ہوئے دیکھ رہی ہوں، وہ لوگ میری بہن کو کھانا بھی نہیں دیتے تھے‘۔

چھوٹی بہن نے عدالت کے سامنے گواہی دی کہ میرا بھائی برقی بندوق (اسٹن گن) سے میری بہن کو بے ہوش کرتا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں