The news is by your side.

Advertisement

ایل او سی پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے خاتون شہید، 8 سالہ بچی زخمی

اسلام آباد : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل افتخار بابر نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر کہا کہ ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا بھارتی ٹریک ریکارڈ بدتر ہوتا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے بھارتی فوج کی ایل او سی پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج کی جندروٹ، کھوئی رٹہ سیکٹر کی شہری آبادی پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں 36 سالہ یاسمین بی بی شہید اور 8 سالہ عطیہ ظہیر زخمی ہوگئی۔

میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والی بچی کو فوری طور پر طبی مرکز منتقل کردیا گیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مودی کو اقتدار ملنے سے ہندو توا، سیفران دہشتگردی بھارت میں انتہا پر پہنچ گئی ہے، مودی نے آر ایس ایس کے انتہا پسند نظریے، تشدد کی پالیسی کو سرحد پار تک پھیلا دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا بھارتی ٹریک ریکارڈ بدتر ہوتا جارہا ہے، 2015 میں بھارت نے جنگ بندی کی 248 خلاف ورزیاں کیں اور 39 شہریوں کو شہید جبکہ 152 کو زخمی کیا۔

جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ 2016 میں 382 خلاف ورزیو کی صورت میں 46 پاکستانی شہری شہید، 150 زخمی ہوئے جبکہ 2017 میں 1881 مرتبہ بھارتی فوجیوں نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی اور 53 افراد کو شہید جبکہ 256 کو زخمی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر 2018 میں سیز فائر کی خلاف ورزیاں 3038 تک پہنچ گئیں اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی بھارتی روش 58 جانیں لے گئی۔

جنرل افتخار نے کہا کہ 2018 میں ایل او سی کے قریب رہنے والے 319 افراد زخمی بھی ہوئے، گزشتہ 6 سال میں 2019 میں زیادہ 3351 مرتبہ بھارت نے سیز فائر کی خلاف ورزی کی اور 2019 میں بھارتی فائرنگ سے 52 افراد شہید، 261 زخمی ہوئے جبکہ 2020 میں بھی امن کے دشمن بھارت، مودی مذموم عزائم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے موذی وبا سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کا کہ کرونا کی آفت بھی سویلین آبادی کو نشانہ بنانے سے بھارت کو نہیں سکی۔

ذرائع کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر دنیا کی توجہ پروان چڑھتی سیفران ٹیررازم پر مرکوز کراچکے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے 26 فروری کو ملک میں کرونا کیس، ایل او سی کی صورتحال بتائی تھی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کچھ عرصے سے بھارتی اشتعال انگیزی میں اضافہ ہوا ہے، سیز فائر خلاف ورزیوں میں بھارت نے ہیوی آرٹلری کا استعمال کیا جبکہ بھارتی فوج کشمیریوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کر رہی ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ بھارتی فوجی قیادت نے میڈیا پروپیگنڈے کی ناکام کوشش کی، بھارتی فوج، سیاسی قیادت کی سیفرانائزیشن افسوسناک ہے، بھارتی سیفرانائزیشن موجودہ حالات میں دنیا کے لئے نقصان دہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرونا عالمی وبا ہے جس سے پوری دنیا متاثر ہے، وبا رنگ، نسل، قومیت یا مذہب سے مبرا ہوتی ہے، وبا کو اسلام، مسلمانوں سے جوڑنے کی مذموم بھارتی کوشش ناکام ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی بیانات ناکامیوں پر بڑھتی فرسٹریشن ظاہر کرتے ہیں، دنیا کرونا کے خلاف متحد ہورہی ہے، بد قسمتی سے بھارت ہندو توا، سیفران ٹیررازم کو فروغ دے رہا ہے، ظلم کی مقبوضہ کشمیر میں لگائی بھارتی آگ اب بھارت میں پھیل چکی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں