کراچی: کریڈٹ کارڈ بنانے کے نام پر خاتون سے تھانے میں زیادتی اور نازیبا ویڈیو وائرل کرنے کے کیس میں نئی پیشرفت سامنے آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس حساس کیس میں سندھ ہائیکورٹ نے ایس ایس پی انوسٹی گیشن کی رپورٹ پرعدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، رپورٹ میں کہا گیا کہ ملزم کی گرفتاری کیلئے ایس ڈی پی او بہادرآباد اور فیروزآباد کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔
عدالت نے کہا کہ سائبر کرائم کے تحت مقدمہ درج کرنے اور سوشل میڈیا سے نازیبا ڈیٹا ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا، پولیس کی رپورٹ میں کوئی پیشرفت نہیں ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن کے جواب سے لگتا ہے کہ انکو اس معاملے سے کوئی دلچسپی نہیں، عدالت نے مزید تحقیقات اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کےلیے کیس ایڈیشنل آئی جی کے سپرد کردیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ اے آئی جی ذاتی طور پر تحقیقات کی نگرانی کریں اور یقینی بنایا جائے کہ ملزم کو گرفتار کیا جائے، ایڈیشنل آئی جی اب تک کی پولیس تحقیقات سے متعلق انکوائری کریں۔
سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ تحقیقات میں پولیس کی غفلت سامنے آتی ہے تو محکمہ جاتی کارروائی کی جائے، عدالت کی جانب سے پولیس کو کلین چٹ نہیں دی جائےگی۔
عدالت نے کہا کہ امید ہے ایڈیشنل آئی جی عدالت کے احکامات پر عمل کریں گے، آئندہ سماعت پر ایڈیشنل آئی جی آفس سے کوئی ذمہ دار افسر پیش ہوں۔
عدالتی احکامات کی نقول آئی جی ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور پراسیکیوٹر جنرل کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا گگیا ہے، عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 8 دسمبر تک ملتوی کردی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


