The news is by your side.

Advertisement

محبت پانے کیلیے لڑکی بنگلادیش سے تیر کر بھارت پہنچ گئی

نوجوان کی محبت میں گرفتار 22 سالہ بنگلا دیشی لڑکی دریا میں تیر کر شادی کے لیے بھارت پہنچ گئی جہاں اسے پولیس نے حراست میں لے لیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بنگلا دیشی لڑکی بھارت میں موجود اپنے بوائے فرینڈ سے شادی کے لیے سرحد پار آگئی۔ لڑکی نے بھارت پہنچنے کے لیے سندربن جنگل کا راستہ اختیار کیا، اس کے بعد لڑکی نے ایک گھنٹے سے زائد دیر تک دریا میں تیر کر راستہ طے کیا اور پھر اپنی محبت کے ساتھ متحد ہونے کے لیے بھارت میں داخل ہوئی۔

بنگلا دیشی لڑکی کی شناخت کرشنا منڈل کے نام سے ہوئی ہے جس کا بوائے فرینڈ ابھیک بھارت کا شہری ہے۔ دونوں کی دوسری فیس بک پر ہوئی تھی جو بعد میں محبت میں تبدیل ہوگئی۔

کرشنا کے پاس پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس نے غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کا سوچا۔

پولیس ذرائع کے مطابق کرشنا سب سے پہلے سندربن میں داخل ہوئی جو کہ رائل بنگال ٹائیگرز کے لیے جانا جاتا ہے، اس کے بعد وہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے تقریباً ایک گھنٹے تک دریا میں تیرتی رہی۔

پولیس کے مطابق تین دن پہلے کرشنا کی شادی کولکتہ کے کالی گھاٹ مندر میں ابھیک سے ہوئی تاہم اسے پیر کو غیر قانونی طور پر بھارت میں داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔

بھارت میڈیا کے مطابق کرشنا کو بنگلا دیش ہائی کمیشن کے حوالے کیا جائے گا۔

اس سے قبل ایک بنگلا دیشی نوجوان بھارت سے چاکلیٹ خریدنے کے لیے سرحد پار کر گیا۔ ایمان حسین نے تیر کر ایک چھوٹا سا دریا عبور کیا اور اپنی پسندیدہ چاکلیٹ بار حاصل کرنے کے لیے حفاظتی باڑ کے ایک خلا سے سرحد عبور کر کے بھارت میں داخل ہوا تھا۔

نوجوان کو مقامی پولیس نے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اسے 15 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں