The news is by your side.

Advertisement

خون عطیہ کرنے والی دوشیزہ کا ہاتھ مفلوج ہوگیا

اوٹاوا : خون کا عطیہ دیکر دوسروں کی زندگی بچانے والی کینیڈین دوشیزہ کا اپنا ہاتھ مفلوج ہوگیا۔

طبی ماہرین کے مطابق انسانی جسم میں تین بوتل خون اضافی ہوتا ہے اور تندرست انسان ہر تین ماہ بعد خون کا عطیہ دے سکتا ہے جس سے صحت میں مزید بہتری آتی لیکن کینیڈا میں دوسروں کی زندگی بچانے کیلئے خون کا عطیہ دینے والی لڑکی کا ہاتھ ہی مفلوج ہوگیا۔

متاثرہ لڑکی گیبریلا ایکمین نے بتایا کہ جب وہ 17 برس کی ہوئیں تو انہوں نے اس نیت سے خون کا عطیہ کیا کہ دوسروں کی زندگی بچانے میں اپنا بھی حصہ شامل کرسکیں لیکن خدمت خلق کا عمل مجھے بھاری پڑگیا۔

انہوں نےکہا کہ جب میں خون عطیہ کرنے گئی تو ایک ہیلتھ ورکر نے میرے سیدھے بازو میں ‘وین’ کی جگہ ‘آرٹری’ میں سوئی ڈال دی جس کی وجہ سے ان کا آکسیجینیٹڈ خون نکلنے لگا۔

کچھ دیر بعد میرے ہاتھ میں تکلیف بڑھ گئی جس کے باعث مجھے اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ابتدائی طبی امداد دیکر مجھے گھر بھیج دیا کیونکہ انہیں بھی مرض سمجھ میں نہیں آیا۔

گیبریلا نے کہا کہ کچھ روز بعد میرا ہاتھ مفلوج ہونے لگا اور زخم بھی پڑنے لگے جس پر میں اسپتال کی ایمرجنسی میں گئی تو معلوم ہوا کہ ہیلتھ ورکر نے بلڈ ڈرائیو کے دوران سوئی غلط نس میں ڈال دی جس کے باعث میرا ہاتھ مفلوج ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ اب میں 21 برس کی ہوگئی ہوں میراہاتھ مکمل طور پر مفلوج ہوچکا ہے، جب بھی میں آئینے میں خود کو دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ میں تو دوسروں کی زندگی بچانے گئی تھی پھر میرے ساتھ ایسا کیوں ہوگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ گیبرلا ایک خاص میڈیکل کنڈیشن کا شکار ہوگئی ہے، جو کئی دن، مہینے یا سال گزرنے کے باوجود بھی کب صحیح ہوگی، کچھ نہیں کہہ سکتے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں